سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 54

ة سيرة النبي علي صلى الله 39 جلد 7 پھرتے ہیں تو دل کے اندھوں نے اپنے سامنے خدا کا نبی نہیں بلکہ ایک حقیر اور دھتکارا ہوا انسان پایا اور سمجھے کہ شاید اس کو دکھ دینا اور تکلیف پہنچانا قوم کے رؤسا کی نظروں ہوئے میں ہم کو معزز کر دے گا۔ وہ ایک دن جمع ہوئے ، کتے انہوں نے اپنے ساتھ لئے، لڑکوں کو اکسایا اور پتھروں سے اپنی جھولیاں بھر لیں اور بیدردی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلم کو کو پتھراؤ کرنا شروع کیا۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہر سے دھکیلتے باہر لے گئے ۔ آپ کے پاؤں لہولہان ہو گئے اور زید آپ کو بچاتے ہوئے سخت زخمی ہوئے مگر ظالموں کا دل ٹھنڈا نہ ہوا وہ آپ کے پیچھے چلتے گئے اور چلتے گئے جب تک شہر سے کئی میل دور کی پہاڑیوں تک آپ پہنچ گئے اُنہوں نے آپ کا پیچھا نہ چھوڑا۔ جب یہ لوگ آپ کا پیچھا کر رہے تھے تو آپ اس ڈر سے کہ خدا تعالیٰ کا غضب ان پر نہ بھڑک اٹھے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے اور نہایت الحاح سے دعا کرتے الہی ! ان لوگوں کو معاف کر کہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں 36۔ زخمی ، تھکے ہوئے اور دنیا کے لوگوں کی طرف سے دھتکارے ہوئے آپ ایک انگورستان کے سایہ میں پناہ گزیں ہوئے۔ یہ انگورستان مکہ کے دو سرداروں کا تھا۔ یہ سردار اُس وقت اس انگورستان میں تھے پرانے اور شدید دشمن جنہوں نے دس سال تک آپ کی مخالفت میں اپنی زندگی گزاری تھی شاید اُس وقت اس بات سے متاثر ہو گئے کہ ایک مکہ کے آدمی کو طائف کے لوگوں نے زخمی کیا ہے یا شاید وہ گھڑی ایسی گھڑی تھی جب نیکی کا بیج اُن کے دلوں میں سر اٹھا رہا تھا اُنہوں نے ایک تھال انگوروں کا بھرا اور اپنے غلام عداس کو کہا کہ جاؤ اور ان مسافروں کو اسے دو۔ عداس نینوا کا رہنے والا ایک عیسائی تھا۔ جب اُس نے یہ انگور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے اور آپ نے یہ کہتے ہوئے اُن انگوروں کو لیا کہ خدا کے نام پر جو بے انتہا کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے میں یہ لیتا ہوں تو عیسائیت کی یاد اُس کے دل میں پھر تازہ ہوگئی ۔ اُس نے محسوس کیا کہ اُس کے سامنے خدا کا ایک نبی بیٹھا ہے جو اسرائیلی نبیوں کی سی