سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 55
صلى الله سيرة النبي علي 40 جلد 7 زبان میں باتیں کرتا ہے۔ اُس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو ؟ جب اُس نے کہا نینوا کا تو آپ نے فرمایا وہ نیک انسان یونس جو متی کا بیٹا تھا اور نینوا کا باشندہ وہ میری طرح خدا کا ایک نبی تھا۔ پھر آپ نے اُس کو اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کی ۔ عداس کی حیرانی چند ہی لمحوں میں تعجب سے بدل گئی ۔ تعجب ایمان میں تبدیل ہو گیا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ اجنبی غلام آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیہ وسلم سے لپٹ گیا اور آپ کے سر اور ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دینے لگا 37۔ عداس کی باتوں سے فارغ ہو کر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف مخاطب ہوئے او اور آپ نے خدا ۔ خدا سے یوں دعا مانگی :۔ اللهُمَّ إِلَيْكَ اَشْكُرُ ضُعُفَ قُوَّتِي وَقِلَّةَ حِيلَتِي وَ هَوَانِي عَلَى النَّاسِ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِينَ وَأَنْتَ رَبِّي إِلَى مَنْ تَكِلُنِي إلَى بَعِيدٍ يَتَجَهَّمُنِي أَمْ إِلَى عَدُوٌّ مَلَكْتَهُ أَمْرِى إِنْ لَّمْ يَكُنُ بِكَ عَلَى غَضَبٌ فَلَا أُبَالِي وَلَكِنْ عَافِيَتُكَ هِيَ أَوْسَعُ لِي اَعُوذُ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمْتُ وَصَلُحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ مِنْ أَنْ تُنَزِّلَ بِي غَضَبَكَ اَوْ يَحِلَّ عَلَى سَخَطُكَ لَكَ الْعُقْبَى حَتَّى تَرْضَى وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ 38 یعنی اے میرے رب ! میں تیرے پاس اپنی کمزوریوں اور اپنے سامانوں کی کمی اور لوگوں کی نظروں میں اپنے حقیر ہونے کی شکایت کرتا ہوں ۔ لیکن تو غریبوں اور کمزوروں کا خدا ہے اور تو میرا بھی خدا ہے تو مجھے کس کے ہاتھوں میں چھوڑے گا۔ کیا اجنبیوں کے ہاتھوں میں جو مجھے ادھر اُدھر دھکیلتے پھریں گے یا اُس دشمن کے ہاتھ میں جو میرے وطن میں مجھ پر غالب ہے۔ اگر تیرا غضب مجھ پر نہیں تو مجھے ان دشمنوں کی کوئی پرواہ نہیں ۔ تیرا رحم میرے ساتھ ہے اور تیری عافیت میرے لئے زیادہ وسیع ہے۔ میں تیرے چہرہ کی روشنی میں پناہ چاہتا ہوں ۔ یہ تیرا ہی کام ہے کہ تو تاریکی کو