سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 53

صلى الله سيرة النبي علي 38 جلد 7 اس بات کو کب برداشت کر سکتا تھا کہ لوگ اُس سے بات ہی نہ کریں اور اس کی بات سننے کے لئے تیار ہی نہ ہوں ۔ ایسی بیکار زندگی اس کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی ۔ پس آپ نے پختہ فیصلہ کر لیا کہ اب آپ طائف کی طرف جائیں گے اور طائف کے لوگوں کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچائیں گے اور خدا تعالیٰ کے نبیوں کے لئے یہی مقدر ہوتا ہے کہ وہ ادھر سے اُدھر مختلف قوموں کو مخاطب کرتے پھریں۔ موسی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ، کبھی وہ آل فرعون سے مخاطب ہوا تو کبھی آل اسحاق سے اور کبھی مدین کے لوگوں سے ۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی تبلیغ کے شوق میں کبھی جلیل کے لوگوں ، کبھی مردن پار کے لوگوں ، کبھی یروشلم کے لوگوں اور کبھی اور دوسرے لوگوں کو مخاطب کرنا پڑا۔ جب مکہ کے لوگوں نے باتیں سننے سے ہی انکار کر دیا اور یہ فیصلہ کر لیا کہ مارو اور پیٹو مگر بات بالکل نہ سنو تو آپ نے طائف کی طرف رخ کیا۔ طائف مکہ سے کوئی ساٹھ میل کے قریب جنوب مشرق کی طرف ایک شہر ہے جو اپنے پھلوں اور اپنی زراعت کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ شہر بت پرستی میں مکہ والوں سے کم نہ تھا۔ خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کے سوالات نامی ایک مشہور بت طائف کی اہمیت کا موجب تھا جس کی زیارت کیلئے عرب کے لوگ دور دور سے آتے تھے۔ طائف کے لوگوں کی مکہ سے بہت رشتہ داریاں بھی تھیں اور طائف اور مکہ کے درمیان کئی سرسبز مقامات میں مکہ والوں کی جائیدادیں بھی تھیں ۔ جب آپ طائف پہنچے تو وہاں کے رؤسا آپ سے ملنے کے لئے آنے شروع ہوئے لیکن کوئی شخص حق کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوا۔ عوام الناس نے بھی اپنے رؤسا کی اتباع کی اور خدا کے پیغام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا۔ دنیا داروں کی نگاہ میں بے سامان اور بے مدد گار نبی حقیر ہی ہوا کرتا ہے وہ تو اسلحہ اور فوجوں کی آواز سننا جانتے ہیں آپ کی نسبت باتیں تو پہنچ ہی چکی تھیں جب آپ طائف پہنچے اور انہوں نے دیکھا کہ بجائے اس کے کہ آپ کے ساتھ کوئی فوج اور جتھا ہوتا آپ صرف زید ہی کی ہمراہی میں طائف کے مشہور حصوں میں تبلیغ کرتے