سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 52

سيرة ة النبي علي صلى الله 37 جلد 7 کے قائل نہیں مجرم اور قابل سزا سمجھتا ہے تو اپنے آباء کی غیرت کے جوش میں ابولہب نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور عہد کیا کہ وہ آئندہ پہلے سے بھی زیادہ آپ کی مخالفت کرے گا۔ محصوری کی زندگی کی وجہ سے چونکہ تین سال تک لوگ اپنے رشتہ داروں سے جدا رہے تھے اس لئے تعلقات میں ایک سردی پیدا ہو گئی تھی ۔ مکہ والے مسلمانوں سے قطع کلامی کے عادی ہو چکے تھے اس لئے تبلیغ کا میدان محدود ہو گیا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ حالت دیکھی تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ وہ مکہ کی بجائے طائف کے لوگوں کو جا کر اسلام کی دعوت دیں ۔ آپ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ مکہ والوں کی مخالفت نے اس ارادہ کو اور بھی مضبوط کر دیا۔ اوّل تو مکہ والے بات سنتے ہی نہیں تھے دوسرے اب انہوں نے یہ طریقہ اختیار کر لیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گلیوں میں چلنے ہی نہ دیتے ۔ جب آپ باہر نکلتے آپ کے سر پر مٹی پھینکی جاتی تا کہ آپ لوگوں سے مل ہی نہ سکیں ۔ ایک دفعہ اسی حالت میں واپس لوٹے تو آپ کی ایک لڑکی آپ کے سر پر سے مٹی ہٹاتے ہوئے رونے لگی ۔ آپ نے فرمایا او میری بچی! رو نہیں کیونکہ یقیناً خدا تمہارے باپ کے ساتھ ہے 35 ۔ تکالیف سے گھبراتے نہ تھے لیکن مشکل یہ تھی کہ لوگ بات سننے کو تیار نہ تھے۔ جہاں تک تکالیف کا سوال ہے آپ اُن کو ضروری سمجھتے تھے بلکہ آپ کے لئے سب سے زیادہ تکلیف کا دن وہ ہوتا تھا جب کو ئی شخص آپ کو تکلیف نہ دیتا تھا۔ لکھا ہے کہ ایک دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی گلیوں میں تبلیغ کے لئے نکلے مگر اُس دن کسی منصوبہ کے ماتحت کسی شخص نے آپ سے کلام اور نہ آپ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف دی نہ کسی غلام نے نہ کسی آزاد نے ۔ تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدمہ اور غم سے خاموش لیٹ گئے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی اور فرمایا جاؤ اور اپنی قوم کو پھر اور پھر اور پھر ہوشیار کرو اور ان کی عدم توجہی کی پرواہ نہ کرو۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات گراں نہ گزرتی تھی کہ لوگ آپ کو دکھ دیتے تھے لیکن خدا کا نبی جو دنیا کو ہدایت دینے کے لئے مبعوث ہوا تھا وہ نہ کیا