سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 495

سيرة النبي علي اور ہر صلى الله 480 جلد 7 کہ ہم نے اُس کی عقل اور رائے میں کبھی کوئی عیب نہیں دیکھا۔ جب اُس نے پوچھا کہ کیا اُس نے کبھی بد عہدی بھی کی ہے؟ تو ابوسفیان نے کہا کہ اس نے آج تک کوئی بد عہدی نہیں کی ۔ جب اُس نے پوچھا کہ وہ تمہیں کن باتوں کی تعلیم دیتا ہے؟ تو ابوسفیان نے کہا کہ ہمیں یہی کہتا ہے کہ ہم سچ بولا کریں ، خدائے واحد کی عبادت کیا کریں، وفائے عہد سے کام لیں ، امانت اور دیانت کا مادہ اپنے اندر پیدا کریں ہر قسم کے : ناپاک اور گندے کاموں اموں سے بچیں 86 ۔ غرض با وجود مخالفت کے اُسے ہر سوال کے جواب میں آپ کی طہارت اور پاکیزگی کا اقرار کرنا پڑا اور قیصر روما کے بھرے دربار میں اُسے آپ کے مناقب کا ترانہ گانا پڑا کیونکہ خدا نے کہا تھا کہ ہم تجھے مقام محمود عطا کرنے والے ہیں ۔ آج مکہ والے تجھے بیشک مدتم کہہ لیں ، بیشک ہر قسم کا جھوٹ بول کر تجھے برا بھلا کہتے پھریں مگر ہم یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ تیری تعریف قائم کی جائے اور زبانوں اور دلوں پر تیری حمد جاری کی جائے ۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کی تقدیر ابوسفیان کو قیصر روما کے دربار میں کھینچ کر لے گئی اور شاہی دربار میں اُسے اقرار کرنا پڑا کہ مکہ کے لوگ جھوٹ بولتے ہیں ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقتاً تعریف کے قابل ہیں اور کوئی عیب اُن میں نہیں پایا جاتا۔ موجودہ زمانہ میں پھر اللہ تعالیٰ نے اسی مقام محمود کی تجلیات کو اور زیادہ روشن اور نمایاں کرنے کے لئے اس زمانہ میں حضرت مقام محمود کی تجلیات مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اور آپ کے بعد مجھے پیدا کیا اور ہم سے اُس نے آپ کے حسن کی وہ تعریف کروائی کہ آج ا۔ ج اپنے تو الگ رہے بیگانے بھی آپ کی تعریف کر رہے ہیں اور یورپ اور امریکہ میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام بھیجتے ہیں مگر یہ تغیر کیوں ہوا؟ اسی لئے کہ اس روحانی در بار خاص کا بادشاہ جس انعام کا اعلان کرتا ہے وہ انعام چلتا چلا جاتا ہے اور کوئی انسان اس کو چھیننے کی طاقت نہیں رکھتا۔ جب اُس