سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 494

سيرة النبي علي صلى الله 479 جلد 7 بدر کی جنگ میں جن کفار کو مسلمانوں نے قید کر لیا تھا اُن میں حضرت عباس بھی شامل تھے اور چونکہ وہ ناز و نعمت میں پلے ہوئے تھے اس لئے جب انہیں رسیوں سے جکڑا گیا تو انہوں نے شدت تکلیف کی وجہ سے کراہنا شروع کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں ان کے کراہنے کی آواز پہنچتی تو آپ بے چینی میں بار بار کروٹیں بدلتے مگر زبان سے کچھ نہیں فرماتے تھے ۔ صحابہ نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت دیکھی تو وہ سمجھ گئے کہ اس کی وجہ حضرت عباس کا کراہنا ہے۔ وہ چپکے سے اٹھے اور انہوں نے حضرت عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دیں اور اُن کے کراہنے کی آواز بند ہو گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب آپ کے کانوں میں حضرت عباس کے کراہنے کی آواز نہ آئی تو آپ نے صحابہ سے فرمایا عباس کے کراہنے کی آواز کیوں نہیں آ رہی؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کی تکلیف کے خیال سے اُن کی رسیاں ڈھیلی کر دی ہیں ۔ آپ نے فرمایا یہ انصاف کے خلاف ہے کہ باقی قیدیوں کو سختی سے جکڑا جائے اور عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دی جائیں۔ جاؤ اور یا تو عباس کی رسیاں بھی کس دو اور یا پھر باقی قیدیوں کی رسیاں بھی ڈھیلی کرد و 85 ۔ قیصر روما کے دربار غرض جس پہلو کے لحاظ سے بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جائے آپ تعریف ہی تعریف کے میں ابو سفیان کا اقرار قابل دکھائی دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب قیصر روما نے ابوسفیان سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مختلف سوالات کئے تو ہر سوال کے جواب میں اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبی اور آپ کے کمال کا اعتراف کرنا پڑا۔ جب اس نے پوچھا کہ اس شخص کا خاندان کیسا ہے؟ تو ابوسفیان نے کہا کہ وہ ایک نہایت معزز خاندان میں سے ہے۔ جب اُس نے پوچھا کہ کیا دعوٹی سے پہلے تم نے کبھی اسے کسی برائی میں مبتلا دیکھا ؟ تو اُس نے کہا ہرگز نہیں ۔ جب اُس نے پوچھا کہ اس کی عقل اور اصابت رائے کا کیا حال ہے؟ تو ابوسفیان کو یہی کہنا پڑا -