سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 493
لله صلى الله سيرة ابي عليه 478 جلد 7 سخاوت سخاوت آپ کے اندر اس قدر پائی جاتی تھی کہ اگر آپ سے کوئی چیز مانگی سخاوت وہ تو ؟ جاتی اور وہ آپ کے پاس موجود ہوتی تو آپ اس کے دینے میں کبھی دریغ نہ فرماتے اور یہ سخاوت عمر بھر آپ کا معمول رہی مگر صحابہ کہتے ہیں کہ رمضان المبارک کے ایام آتے تو اُن دنوں آپ کی سخاوت کا دائرہ غیر معمولی طور پر وسعت اختیار کر لیتا 80 ، اسی سخاوت کا یہ نتیجہ تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو آپ کے گھر میں کوئی درہم اور دینار موجود نہیں تھا حالانکہ آپ اُس وقت عرب کے بادشاہ بن چکے تھے۔ رحم ولی حیا آپ کے اندر اس قدر پایاجاتا تھا کہ صحابہ کہتے ہیں آپ ایک کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیادار تھے 81۔ رحم آپ کے اندر اس قدر پایا جاتا تھا کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اُس پر رحم نہیں کیا جا تا 82 آپ کا ایک نواسہ ایک دفعہ بیمار ہوا اور اُس کی حالت نازک ہو گئی ۔ آپؐ کی بیٹی نے آپؐ کی طرف پیغام بھیجا آپ تشریف لائے اور بچے کو دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے ۔ ایک صحابی کہنے لگے يَا رَسُولَ الله ! آپ بھی روتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے سخت دل نہیں بنایا 83 ۔ عدل و انصاف انصاف آپ کے اندر اس قدر پایا جاتا تھا کہ ایک دفعہ کسی بڑے خاندان کی عورت نے چوری کی اور وہ پکڑی گئی ۔ اس پر بعض لوگوں نے چاہا کہ اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست کی جائے کہ اسے کوئی سزا نہ دی جائے کیونکہ یہ بڑے خاندان کی عورت ہے اس اس غرض کے لئے انہوں نے حضرت اسامہ کو تیار کیا۔ اسامہ نے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق سفارش کی تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا خدا کی قسم ! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی اس قسم کا جرم کرے تو میں اُس کے بھی ہاتھ کاٹ دوں 84۔