سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 492
سيرة النبي علي صلى الله 477 جلد 7 دوستوں اور دشمنوں سے آپ کے معاملات کو دیکھ لو، جنگ میں آپ کی ہوشیاری کو دیکھ لو ، عورتوں اور بچوں سے معاملات کو لے لو، آپ کے تنظیمی کارناموں پر نظر ڈالو، لو، صور تقول اور بچوں سے معاملات کو لے لو، آپ کے آپ کی جرنیلی شان کو ملاحظہ کرو تمہیں دکھائی دے گا کہ ہر پہلو کے لحاظ سے آپ کو مقام محمود حاصل ہے اور ہر معاملہ میں دنیا آپ کی اقتدا کرنے پر مجبور ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہادری آپ کی بہادری کی یہ کیفیت تھی کہ مدینہ میں ایک دفعہ باہر جنگل کی طرف سے شور کی آواز آئی ۔ اُن دنوں یہ خبریں مشہور ہو رہی تھیں کہ روما کی حکومت مدینہ پر حملہ کرنے والی ہے۔ اس شور کی آواز پر تمام مسلمانوں میں گھبراہٹ پیدا ہو گئی اور وہ اس ارادہ کے ساتھ مسجد میں جمع ہوئے کہ مشورہ کے بعد کچھ لوگوں کو باہر بھیجوا دیا جائے جو دیکھیں کہ یہ کیسا شور ہے مگر ابھی وہ جمع ہی ہو رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر بیٹھے ہوئے باہر سے تشریف لا رہے ہیں آپ نے آتے ہی فرمایا میں شور کی آواز سن کر فوراً باہر چلا گیا تھا اور میں نے چکر لگا کر دیکھ لیا ہے خطرہ کی کوئی بات نہیں اطمینان سے اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ 78۔ صبر و استقلال صبر و استقلال آپ کے اندر اس قدر پایا جاتا تھا کہ مکی زندگی میں کفار کی طرف سے آپ کو سخت سے سخت تکالیف دی گئیں، آپ کو برا بھلا کہا گیا ، آپ کو شعب ابی طالب میں ایک لمبے عرصہ تک محصور رکھا گیا ، آپ کا مقاطعہ کیا گیا ، آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر اس قدر گھونٹا گیا کہ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں ، آپ پر پتھروں کی اس قدر بوچھاڑ کی گئی کہ طائف سے آتے وقت آپ سر سے پاؤں تک لہو لہان ہو گئے 79 مگر ان تمام تکالیف کے با وجود آپ جس پیغام کو لے کر کھڑے ہوئے تھے اُسے اٹھتے بیٹھتے ، سوتے اور جا گئے آپ نے لوگوں تک پہنچایا اور ایک لمحہ کے لئے بھی آپ کے پائے ثبات میں جنبش نہیں آئی ۔