سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 496
ة صلى الله سيرة النبي علي 481 جلد 7 نے اپنے دربار میں یہ اعلان کیا کہ اے ہمارے گورنر جنرل ! ہم تجھے ایسے مقام پر پہنچانے والے ہیں کہ دنیا تیری تعریف کرنے پر مجبور ہو گی تو کون شخص تھا جو خدا تعالیٰ ہیں پر ہوگی تو جو کے اس پروگرام میں حائل ہو سکتا ۔ اس نے محمدی انوار کی تجلیات کو روشن کرنا شروع کیا اور اُس کے حسن کو اتنا بڑھایا کہ دنیا کی تمام خوبصورتیاں اس حسین چہرہ کے سامنے ماند پڑ گئیں اور دوست اور دشمن سب کے سب یک زبان ہو کر پکار اٹھے کہ محمد حقیقتاً محمد اور قابلِ تعریف ہے صلی اللہ علیہ وسلم ۔ عظیم الشان دربار غرض یہ کیسا عظیم دربار ہے کہ اس میں بادشاہ کی طرف سے اپنے درباری کو جو انعام دیا گیا وہ دنیا کی شدید مخالفت کے با وجود قائم رہا، قائم ہے اور قائم رہے گا ۔ حکومتیں اس روحانی گورنر جنرل کے مقابلہ میں کھڑی ہوئیں تو وہ مٹا دی گئیں ، سلطنتوں نے اس کو ترچھی نگاہ سے دیکھا تو وہ تہہ و بالا کر دی گئیں، بڑے بڑے جابر بادشاہوں نے اس کا مقابلہ کیا تو وہ مچھر کی طرح مسل دیئے گئے کیونکہ اس در بار خاص کا بادشاہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اُس کے مقرر کردہ گورنر جنرل کی کوئی ہتک کرے یا اس کے پہنائے ہوئے جبہ کو کوئی اتارنے کی کوشش کرے۔ وہ اپنے درباریوں کے لئے بڑا غیور ہے اور سب سے بڑھ کر وہ اس درباری کے لئے غیرت مند ہے جس کا مبارک نام محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہے خدا تعالیٰ کی اس پر لاکھوں برکتیں اور کروڑوں سلام ہوں ۔ امِينَ يَا رَبَّ الْعَلَمِينَ۔“ سیر روحانی نمبر 6 صفحه 204 تا 264 ناشر الشركة الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ 1956ء ) 1: موضوعات ملا علی قاری صفحہ 59 مطبع مجتبائی دہلی 1346 ھ 2، 3 : لسان العرب جلد 13 صفحہ 197 بیروت 1988 ء 4: اقرب الموارد جلد 2 صفحہ 1068 مطبوعہ بیروت 1889ء 5: لسان العرب جلد 5 صفحہ 267 مطبوعہ قاهره 2013 ء 6: المائدة : 68