سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 485
سيرة النبي علي صلى الله پیدا کر دیا۔ 470 جلد 7 آپ جس زمانہ میں مبعوث ہوئے ہیں اُس زمانہ میں مذہب ہی نہیں انسانیت بھی مر چکی تھی اور شرافت دنیا سے مفقود ہو چکی تھی ۔ ہر قسم کا فسق و فجور لوگوں میں پایا جاتا تھا اور ہر قسم کی نیکی عنقا تھی یہاں تک کہ بدی کا احساس بھی لوگوں کے قلوب سے مٹ چکا تھا اور وہ ندامت اور شرمندگی محسوس کرنے کی بجائے بدیوں کے ارتکاب پر فخر محسوس کرتے تھے۔ ایسے خطرناک زمانہ میں آپ نے تزکیہ نفوس کا کام شروع کیا اور ہر قسم کی روکوں اور انتہائی مظالم کے باوجود اس کام کو جاری رکھا یہاں تک کہ وہ دن آگیا کہ صدیوں کے مردوں نے اپنے اندر زندگی کی روح محسوس کی ، قبروں میں دبے پڑے لوگ باہر نکل آئے ، اندھوں نے بینائی حاصل کی ، لولے اور لنگڑے چلنے لگے، کمزوروں نے اپنے اندر طاقت کی ایک لہر دوڑتی ہوئی پائی ، بیماروں نے صحت کے آثار محسوس کئے اور جہالت کی جگہ علم نے ، جمود کی جگہ سعی عمل نے ، شیطنت کی جگہ روحانیت نے اور بدی کی جگہ نیکی نے لے لی ۔ برسوں کے مسخ شدہ انسان آپ کے فیض صحبت سے ایسے پاک ہوئے کہ اُن کی کایا پلٹ گئی ، وہ خدائے واحد کے آستانہ کی طرف کھینچے گئے اور دنیا کی ہدایت کے لئے ایک ایسا مینار بن گئے کہ آج بھی اُن کی روشنی نیند کے ماتوں کو بیدار کرنے اور انہیں چاق و چوبند بنانے کے کام آ رہی ہے۔ غرض اس روحانی گورنر جنرل کو خدائے واحد کی طرف سے جس انعام کا وعدہ دیا گیا تھا وہ وعدہ بڑی شان کے ساتھ پورا ہوا ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کوثر عطا کیا اور ہر رنگ میں اتنی برکات اور انعامات کے ساتھ نوازا کہ انسان کے لئے اُن کا شمار کرنا بھی مشکل ہے۔ ایک کثیر الخیر روحانی فرزند پھر كَوْثَر کے ایک معنے الرَّجُلُ كَثِيرُ الْعَطَاءِ وَالْخَيْرِ 74 کے بھی ہیں یعنی ایسا انسان جو بڑا نخی کے پیدا ہونے کی پیشگوئی ہو اور دنیا میں کثرت سے نیکی پھیلانے والا ہو۔