سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 484
صلى الله سيرة النبي علي 469 جلد 7 اجتہاد اور غور اور فکر کا بھی سلسلہ جاری رکھا گیا ہے تا کہ انسانی دماغ کند ہو کر نہ رہ جائے اور وہ اندھی تقلید کا شکار نہ ہو جائے ۔ تعلیم حکمت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تیر اعظیم الشان کام تعلیم حکمت تھا اس لحاظ سے آپ نے ایک بے مثال معلم کے فرائض سر انجام دیئے ۔ پہلی تمام کتب کو دیکھ لو وہ صرف اتنا کہتی ہیں کہ ایسا کرو اور ایسا نہ کرو مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتایا کہ ایسا کیوں کرواور کیوں نہ کرو۔ وہ شراب اور جوئے سے روکتا ہے تو اس کی حکمت بھی بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ ان چیزوں کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں 71 وہ نماز اور روزے کا حکم دیتا ہے تو ان کے فوائد بھی بیان کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ نماز تمام مخش اور نا پسندیدہ کاموں سے انسان کو بچاتی ہے 72 اور روزوں کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو 73 ۔ غرض اسلام احکام کے ساتھ حکمتیں بھی بیان کرتا ہے اور یہ اسلام کی اتنی بڑی فضیلت ہے جس کا مقابلہ دنیا کا اور کوئی مذہب نہیں کر سکتا۔ آپ نے بتایا کہ خدا تعالیٰ حکیم بھی ہے وہ کوئی حکم بغیر کسی حکمت کے نہیں دیتا پس خدائی تعلیم کے یہ معنے نہیں کہ اُس کے احکام حکمتوں سے خالی ہوں اور محض جبر کے طور پر کچھ باتیں منوانے کی کوشش کی گئی ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف کسی بات کا منسوب ہونا تقاضا کرتا ہے کہ وہ بات لازمی طور پر مختلف قسم کی حکمتوں سے پُر ہو تا کہ انسانی دل انقباض محسوس نہ کرے بلکہ وہ خوش ہو کہ جس حکم پر میں عمل کر رہا ہوں اُس میں میرا بھی فائدہ ہے اور دوسرے بنی نوع انسان کا بھی فائدہ ہے۔ تزکیہ نفوس چوتھا اور اہم کام جو محمد رسل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر د کیا گیا تھا وہ تزکیہ نفوس ہے یعنی لوگوں کے دلوں میں ایسی پاکیزگی پیدا کرنا کہ وہ خدا تعالیٰ کے قریب ہو جائیں اور اُس کی قدرتوں کا جلوہ گاہ بن جائیں۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام کو بھی ایسے احسن طریق سے پورا کیا ہے کہ دوست ہی نہیں دشمن بھی اس بات کے معترف ہیں کہ آپ نے دنیا میں ایک انقلاب