سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 486
ة سيرة النبي علي صلى الله 471 جلد 7 اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں یہ بیان فرمایا تھا کہ اے محمد رسول اللہ ! ہم اب بھی تجھے ہر قسم کی نعمتوں کی کثرت دیں گے اور آئندہ زمانہ میں بھی تجھے ایک بہت بڑا روحانی فرزند عطا کریں گے جو کثیر الخیر ہوگا اور کثرت سے قرآن کریم کے علوم اور اس کے معارف دنیا میں پھیلائے گا۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مفہوم میں یہ پیشگوئی فرمائی کہ يُفِيضُ الْمَالَ -75 - یعنی آنے والا مسیح کثرت کے ساتھ لوگوں میں روحانی دولت تقسیم کرے گا مگر اس کے ساتھ ہی قرآن کریم نے إِنَّا أَعْطَيْتُكَ الْكَوْثَرَ ۔ میں اس طرف بھی اشارہ فرما دیا ہے کہ آنے والا مسیح امت محمدیہ کا ایک فرد ہوگا کیونکہ اِنَّا اَعْطَيْنكَ میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ مسیح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جائے گا اور اس کا وجود ثابت کر دے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتر نہیں پس وہ آپ کا ہی روحانی بیٹا ہو گا باہر کا کوئی آدمی نہیں ہوگا۔ تمام مخالف اقوام ابتر ہو کر رہ گئیں اس جگہ پہلے معنوں کے لحاظ ظ سے دشمنوں سے مراد ابو جہل ، عتبہ اور شیبہ وغیرہ ہیں مگر دوسرے معنوں کے لحاظ سے شَانِئَک سے وہ تمام قو میں مراد ہیں جو آج اسلام پر حملہ کر رہی ہیں ۔ چنانچہ دیکھ لو جب اسلام ضعیف ہو گیا۔ مسلمانوں کی طاقتیں کمزور ہوگئیں اور عیسائی مصنفوں نے یہ لکھنا شروع کر دیا کہ اب اسلام ترقی نہیں کر سکتا اور خود مسلمان مصنفین نے بھی دشمن کے مقابلہ میں معذرتیں شروع کر دیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور آپ نے دنیا کو چیلنج کیا کہ میں محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا ہوں اور میں اس بات کا ایک زندہ ثبوت ہوں کہ آج محمدی چشمہ کے سوا باقی تمام چشمے سوکھ گئے ہیں اور میں اس چشمہ کا پانی پی کر زندہ ہوا ہوں ۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ تم بھی کسی زندہ مذہب کے پیرو ہو تو تم میرے شخص پیش کرو جس پر خدا تعالیٰ کا تازہ کلام اترتا ہو ۔ مگر واقعات بتارہے ہیں کہ اس چیلنج کے مقابلہ میں دنیا کی ساری قو میں ابتر ہو کر رہ گئیں اور وہ سامنے وہ زندہ