سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 482
لله صلى الله سيرة ابي عليه 467 جلد 7 ایمان لانا کوئی خوبی نہ رہے اور انسان کسی جزا کا مستحق نہ ہو ۔ آپ نے اس امر کی تصریح فرمائی کہ عالم آخرت در حقیقت اسی دنیا کا ایک تسلسل ہے جس میں اپنے اپنے اعمال کے مطابق مادیت کے بوجھ سے آزاد ہو کر انسانی روح اُس راستہ پر گامزن ہو جاتی ہے جو اُس نے خود اپنی دنیوی زندگی میں اختیا ر کیا ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص اس دنیا میں روحانی لحاظ سے نا بینائی رکھتا ہو گا وہ عالم آخرت میں بھی اس نا بینائی کو لے کر اٹھے گا اور خدائی قرب کے دروازے اُس پر نہیں کھلیں گے 68۔ غرض ہر وہ مخفی مسئلہ جس پر مذہب اور روحانیت کی بنیاد تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کھول کر بیان کیا کہ انسانی عقول تسلی پا گئیں اور ان کا رسمی ایمان مشاہدہ اور بصیرت کا رنگ اختیار کر گیا۔ شریعت لعنت نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا بڑا بھاری فضل ہے آپ کا دوسرا ہم اہے کام تعلیم کتاب تھا۔ اس کام کو بھی آپ نے ایسے رنگ میں پورا کیا کہ اس کی مثال اور کسی وجود میں نہیں ملتی ۔ آپ کی بعثت سے پہلے دنیا میں بعض ایسے مذاہب تھے جو اپنی نادانی سے شریعت کو لعنت قرار دیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ ایک ایسا بوجھ ہے جو انسان کی کمر کو توڑ دینے والا ہے۔ آپ نے بتایا کہ یہ نظر یہ صحیح نہیں شریعت اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا بھاری فضل ہے کیونکہ انسان جب اس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرے تو وہ اپنی عقل سے خدا تعالیٰ کی مرضی کو کس طرح معلوم کر سکتا ہے ۔ یہ مرحلہ تو اسی صورت میں طے ہو سکتا ہے جب خدا تعالیٰ خود بتائے کہ میری رضا کس امر میں ہے اور شریعت اس چیز کا نام ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی کی راہوں کو خدا تعالیٰ کی زبان سے ہی معلوم کیا جائے ۔ پس شریعت خدا تعالیٰ کی ایک بڑی بھاری رحمت ہے ۔ اس وجہ سے قرآن کریم کو مختلف مقامات میں رحمت قرار دیا گیا ہے اور