سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 481
له صلى الله سيرة ابي عليه 466 جلد 7 اجرا ہوتا ہے اور ایک وہ ہیں جو اُن احکام کو نچلے طبقہ تک لے جانے والے ہیں ۔ پس ملائکہ کا وجود اس عالم کا ایک اہم اور ضروری حصہ ہے۔ اور رسالت اور کلام الہی کی ضرورت آپ نے رسالت اور کلام الہی کی ضرورت کو بھی واضح کیا اور بتایا کہ جس طرح مادی دنیا میں خدا تعالیٰ نے صرف آنکھ پیدا نہیں کی بلکہ لاکھوں میل کے فاصلہ پر ایک سورج بھی پیدا کر دیا ہے تا کہ آنکھ اس کی روشنی سے فائدہ اٹھائے اسی طرح روحانی عالم میں بھی خدا تعالیٰ نے سورج اور چاند اور ستارے بنائے ہیں۔ جو شخص روحانی دنیا کے سورج یا روحانی دنیا کے چاند یا روحانی دنیا کے ستاروں کی ضرورت کا انکار کرتا ہے وہ قانونِ قدرت سے اپنی آنکھیں بند کرتا اور حقائق سے روگردانی اختیار کرتا ہے چنانچہ اسلام نے اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم تمہارے سامنے اس آسمان کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو مختلف بروج والا ہے 66 یعنی جس طرح تمہیں اس مادی دنیا کے آسمان میں سورج اور چاند اور ستارے دکھائی دیتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ نے روحانی عالم میں بھی ظلمتوں کو دور کرنے کے لئے سورج اور چاند اور ستارے بنائے ہیں جو لوگوں کو اپنے نور سے منور کرتے رہتے ہیں ۔ بعث بعد الموت آپ نے اسی سلسلہ میں بعث بعد الموت پر بھی روشنی ڈالی کیونکہ اس کے متعلق بھی کوئی انسان اپنی ذاتی کد و کاوش سے معلومات حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ آپ نے ایک طرف تو جزا وسزا کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور دوسری طرف یہ بتایا کہ اس جزا کا مخفی رکھا جانا بھی ضروری ہے ورنہ انسانی اعمال غیر اختیاری ہو جائیں اور جزا ایک بے معنی لفظ بن کر رہ جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص نہیں جانتا کہ اُس کے لئے عالم آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کیا سامان مخفی رکھا گیا ہے کیونکہ یہ انعام تمہارے اعمال کی جزا میں ملنے والا ہے 67 اگر اس کو ظاہر کر دیا جائے تو حقیقت کے منکشف ہونے پر