سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 480
سيرة النبي علي صلى الله 465 وہ خدا تعالیٰ کی صفات کا نقش اپنے دل پر پیدا کریں 62۔ جلد 7 اسی طرح وہ ایک دوسری جگہ فرماتا ہے اے انسانو! اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے تم کو اس دنیا میں اپنا نمائندہ بنا کر کھڑا کیا ہے اگر تم میں سے کوئی شخص اس مقام کا انکار کرے گا تو اس کا نتیجہ اُس کو بھگتنا پڑے گا 63 یعنی اس عزت کے مقام کو چھوڑ کر وہ خود ہی نقصان اٹھائے گا خدا تعالیٰ کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اسی طرح ایک اور جگہ اس نے فرمایا ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم یقیناً انہیں اپنی بارگاہ تک پہنچنے کے راستے بتا دیتے ہیں 64 ۔ پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی عظمت اور اُس کے جاہ وجلال کو بھی قائم کیا اور بنی نوع انسان کو بھی اس امر کا یقین دلایا کہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرب بن سکتے ہیں ۔ ملائكة الله اسی طرح ملائکہ بھی ایک مخفی وجود ہیں جن کی حقیقت کا علم بغیر کسی ایسے انسان کی راہنمائی کے حاصل نہیں ہو سکتا جسے خدا خود اپنے غیب سے حصہ دے اور بتائے کہ ملائکہ کی کیا حقیقت ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد چونکہ اللہ تعالیٰ نے تلاوت آیات کا کام کیا تھا اس لئے آپ نے اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم کے ماتحت ان کے متعلق بھی بنی نوع انسان کی صحیح راہنمائی فرمائی اور بتایا کہ ملائکہ نظام عالم کے روحانی اور جسمانی سلسلہ کی اُسی طرح ایک اہم کڑی ہیں جس طرح دوسرے نظر آنے والے اسباب مادی دنیا میں مختلف کاموں کی کڑیاں ہیں ۔ وہ صرف خدائی دربار کی رونق کا سامان نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے تکوینی احکام کی پہلی کڑی ہیں اور ان کے بغیر اس کا ئنات کا وجود ادھورا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اسی حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کچھ تو وہ ملائکہ ہیں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو عرش کے ارد گرد رہتے ہیں 65 یعنی ایک تو وہ فرشتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرنے والے ہیں اور جن کے ذریعہ دنیا میں احکام الہیہ کا