سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 479
صلى الله سيرة ة النبي علي 464 جلد 7 پہلے آنے والے مذاہب میں سے ایک بہت بڑا مذہب تھا اور جسے تو رات جیسی کتاب دی گئی تھی اُس میں بھی بہت کم صفات الہیہ کا بیان ہوا ہے۔ بائبل میں خدا تعالیٰ کی صفات کی تنقیص اور پھر ان مذاہب نے خدا تعالی کی طرف کئی ایسے نقائص اور عیوب بھی منسوب کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے اُس کی صفات کی تنقیص ہوتی ہے مثلاً بائبل میں ہی لکھا ہے کہ : وو چھ دن میں خداوند نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور ساتویں دن 6 آرام کیا اور تازہ دم ہوا 60 ۔ گویا خدا تعالیٰ چھ دن کام کرنے کی وجہ سے نَعُوذُ بِاللهِ تھک گیا اور اُسے ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ آرام کرے اور تازہ دم ہو جائے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ خدا تعالیٰ کے متعلق یہ تصور بالکل غلط ہے اس لئے کہ وہ کوئی مادی وجود نہیں جو کام کا بوجھ برداشت نہ کر سکے اور تھکان او ر کوفت محسوس کرے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا مَسَّنَا مِنْ تُغُوبٍ - 61 یعنی زمین و آسمان کی پیدائش سے ہمیں کوئی تھکان محسوس نہیں ہوئی ۔ پس یہ بات بالکل غلط ہے کہ خدا تعالی زمین و آسمان کی پیدائش سے تھک گیا اور ساتویں دن اُس نے آرام کی احتیاج محسوس کی ۔ ۔ اسی طرح مسیحیت نے خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر حملہ کیا اور مسیح اور روح القدس کو بھی اُس کی الوہیت میں شریک قرار دے دیا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کو تمام مادی قیدوں اور ظہوروں سے پاک قرار دیا۔ اور پھر آپ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ انسان اگر خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرے تو وہ خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کر سکتا اور اس کے قرب میں بڑھ سکتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے جن وانس کو صرف اس لئے پیدا کیا کہ