سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 478
له صلى الله سيرة ابي عليه 463 جلد 7 دوسری چیز کی طرف راہنمائی کرے۔ چنانچہ قرآن کریم میں نازل شدہ فقرات کو بھی اسی لئے آیات کہا جاتا ہے کہ اس کا ہر فقرہ دوسرے فقرہ کے معانی کے لئے بطور جاتا ہے کہ اس کا معانی ۔ دلیل ہوتا ہے جس کو مد نظر رکھنے کے بغیر اس کا مفہوم پوری طرح واضح نہیں ہوتا ۔ پس يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آیتہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوع انسان کی ایسے امور کی طرف راہنمائی کرتے ہیں جن کو وہ خود اپنی عقل کے زور سے معلوم کرنے سے قاصر تھے اور چونکہ امور غیبیہ ہی ایک ایسی چیز ہیں جن کو کوئی انسان اپنی عقل اور فکر کے ساتھ معلوم نہیں کر سکتا اس لئے تلاوت آیات کا کام اسی صورت میں مکمل ہو سکتا تھا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کو ایسی باتیں بتاتے جو اُن کے لئے امور غیبیہ پر ایمان لانے کی محرک ہوتیں اور انہیں آپ کی راہنمائی میں وہ روحانی دولت ملتی جو اس سے پہلے ان کے پاس نہیں تھی ۔ تعالیٰ اس نقطۂ نگاہ سے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ امور غیبیہ ہستی باری تعا میں سب سے پہلی اور اہم خبر خدا تعالیٰ کا وجود ہے کیونکہ وہ وراء الورا ہستی ہے اور کوئی انسان اپنے علم اور ادراک کے زور سے اُس تک نہیں پہنچ سکتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے وجود کو بنی نوع انسان کے سامنے اس طرح پیش کیا کہ اس وراء الورا ہستی کی عظمت اور اس کی جبروت کا تصور بھی قائم رہا اور بنی نوع انسان کے قلوب میں یہ یقین بھی پیدا ہو گیا کہ ہما را خدا اپنی مخلوق کو اعلیٰ درجہ کے مقامات پر پہنچانے کی خواہش رکھتا ہے اور وہ انہیں ہر وقت اپنے قرب میں جگہ دینے کے لئے تیار ہے۔ اس غرض کے لئے سب سے پہلی اور اہم خبر صفات الہیہ ہیں کیونکہ غیر محدود ہونے کی وجہ سے وہ صرف اپنی صفات کے ذریعہ ہی پہچانا جا سکتا ہے۔ بیشک صفات الہیہ پر اور مذاہب نے بھی روشنی ڈالی ہے مگر اول تو جس تفصیل کے ساتھ اسلام نے ان صفات کو بیان کیا ہے اس تفصیل کے ساتھ دنیا کے اور کسی مذہب نے صفات الہیہ پر روشنی نہیں ڈالی یہاں تک کہ یہودیت بھی جو اسلام سے