سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 48

سيرة النبي علي صلى الله 33 جلد 7 میری ہی بہن اور میرا ہی بہنوئی اسلام قبول کر چکے ہیں اگر ایسا ہے تو پہلے مجھے اپنی بہن اور اپنے بہنوئی سے نپٹنا چاہئے ۔ یہ سوچتے ہوئے وہ اپنی بہن کے گھر کی طرف چلے ۔ جب دروازہ پر پہنچے تو انہیں اندر سے خوش الحانی سے کسی کلام کے پڑھنے کی آوازیں آئیں۔ یہ پڑھنے والے خباب تھے جو اُن کی بہن اور اُن کے بہنوئی کو قرآن شریف سکھا رہے تھے ۔ عمرؓ تیزی سے گھر میں داخل ہوئے ۔ اُن کے پاؤں کی آہٹ سن کر خباب جھٹ کسی کو نہ میں چھپ گئے اور اُن کی بہن نے جن کا نام فاطمہ تھا قرآن شریف کے وہ اوراق جو اُس وقت پڑھے جارہے تھے چھپا دیئے ۔ حضرت عمر کمرہ میں داخل ہوئے تو غصہ سے پوچھا میں نے سنا ہے تم اپنے دین سے پھر گئے ہو؟ اور یہ کہہ کر اپنے بہنوئی پر جو ان کے چچا زاد بھائی بھی تھے حملہ آور ہوئے ۔ فاطمہ نے جب دیکھا کہ ان کے بھائی عمر ان کے خاوند پر حملہ کرنے لگے ہیں تو وہ دوڑ کر اپنے خاوند کے آگے کھڑی ہو گئیں۔ عمر ہاتھ اٹھا چکے تھے اُن کا ہاتھ زور سے اُن کے بہنوئی کے منہ کی طرف آرہا تھا اور اب اس ہاتھ کو روکنا اُن کی طاقت سے باہر تھا مگر اب ان کے ہاتھ کے سامنے ان کے بہنوئی کی بجائے ان کی بہن کا چہرہ تھا۔ عمر کا ہاتھ زور سے فاطمہ کے چہرہ پر گرا اور فاطمہ کے ناک سے خون کے تراڑے 31 بہنے لگے ۔ فاطمہ نے مار تو کھا لی مگر دلیری سے کہا عمر ! یہ بات سچ ہے کہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور یاد رکھیے ہم اس دین کو نہیں چھوڑ سکتے تم سے جو کچھ ہو سکتا ہو کر لو۔ عمر ایک بہادر آدمی تھے ظلم نے اُن کی بہادری کو مٹا نہیں دیا تھا۔ ایک عورت اور پھر اپنی بہن کو اپنے ہی ہاتھ سے زخمی دیکھا تو شرمندگی اور ندامت سے گھڑوں پانی پڑ گیا۔ بہن کے چہرہ سے خون بہہ رہا تھا مگر عمر کے دل سے اب ان کا غصہ دور ہو چکا تھا۔ اپنی بہن سے معافی مانگنے کی خواہش زور پکڑ رہی تھی اور تو کوئی بہانہ نہ سوجھا بہن سے بولے اچھا ! لاؤ مجھے وہ کلام تو سناؤ جو تم لوگ ابھی پڑھ رہے تھے ۔ فاطمہ نے کہا میں نہیں دکھاؤں گی کیونکہ تم ان اوراق کو ضائع کر دو گے ۔ عمرؓ نے کہا نہیں بہن میں ایسا نہیں کروں گا ۔ فاطمہ نے کہا تم