سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 49

صلى الله سيرة النبي علي 34 جلد 7 تو نجس ہو پہلے غسل کرو پھر دکھاؤں گی ۔ عمرؓ ندامت کی شدت کی وجہ سے سب کچھ کرنے کے لئے تیار تھے۔ وہ غسل پر بھی راضی ہو گئے ۔ جب غسل کر کے واپس آئے تو فاطمہ نے اُن کے ہاتھ میں قرآن کریم کے اوراق دے دیئے ۔ یہ قرآن کریم کے اوراق سورۃ طہ کی کچھ آیات تھیں ۔ جب وہ اسے پڑھتے ہوئے اس آیت پر پہنچے إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِي - إِنَّ السَّاعَةَ اتِيَةً أَكَادُ أُخْفِيْهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى 32 یقیناً میں ہی اللہ ہوں اور کوئی معبود نہیں صرف میں ہی معبود ہوں ۔ پس اے مخاطب ! میری عبادت کر اور نماز پڑھ اور اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر میری عبادت کو قائم کر ۔ رسمی عبادت نہیں بلکہ میری بزرگی کو دنیا میں قائم کرنے والی عبادت ۔ یا د رکھ کہ اس کلام کو قائم کرنے والی گھڑی آ رہی ہے میں اس کے ظاہر کرنے کے سامان پیدا کر رہا ہوں جن کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر ایک جان کو جیسے جیسے وہ کام کرتی ہے اس کے مطابق بدلہ مل جائے گا۔ حضرت عمر جب اس آیت پر پہنچے تو بے اختیار ان کے منہ سے نکل گیا یہ کیسا عجیب اور پاک کلام ہے ۔ خباب نے جب یہ الفاظ سنے تو وہ اس جگہ سے جہاں چھپے ہوئے تھے باہر نکل آئے اور کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی دعا کا نتیجہ ہے۔ مجھے خدا کی قسم ! میں نے کل ہی آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا تھا کہ الہی ! عمر بن الخطاب یا عمرو بن ہشام میں سے کسی ایک کو اسلام کی طرف ضرور ہدایت بخش ۔ عمر کھڑے ہو گئے اور کہا مجھے بتاؤ کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہاں ہیں؟ جب آپ کو بتایا گیا کہ آپ دار ارقم میں رہتے ہیں تو آپ اُسی طرح نگی تلوار کھینچے ہوئے وہاں پہنچے اور دروازه پر دستک دی۔ صحابہ نے دروازہ کی دراڑوں میں سے دیکھا تو انہیں عمر ننگی تلوار لئے کھڑے نظر آئے ۔ وہ ڈرے کہ ایسا نہ ہو دروازہ کھول دیں تو عمر اندر آ کر کوئی فساد کریں ۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوا کیا ؟ دروازہ کھول دو۔ عمر اسی طرح تلوار پکڑے اندر داخل ہوئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور