سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 47
سيرة النبي علي الله 32 جلد 7 لئے اور تو کچھ نہ کر سکا نہایت ہی دکھ کے ساتھ عثمان ہی کو مخاطب کر کے بولا اے میرے بھائی کے بیٹے ! خدا کی قسم ! تیری یہ آنکھ اس صدمہ سے بچ سکتی تھی جبکہ تو ایک زبردست حفاظت میں تھا (یعنی میری پناہ میں تھا لیکن تو نے خود ہی اس پناہ کو چھوڑ دیا اور یہ دن دیکھا۔ عثمان نے جواب میں کہا جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے میں خود اس کا خواہش مند تھا۔ تم میری پھوٹی ہوئی آنکھ پر ماتم کر رہے ہو حالانکہ میری تندرست آنکھ اس بات کیلئے تڑپ رہی ہے کہ جو میری بہن کے ساتھ ہوا ہے وہی میرے ساتھ کیوں نہیں ہوتا 30 - محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ میرے لئے بس ہے۔ اگر وہ تکلیفیں اُٹھا رہے ہیں تو میں کیوں نہ اُٹھاؤں ۔ میرے لئے خدا کی حمایت کافی ہے۔ حضرت عمرؓ کا قبول اسلام اس زمانہ میں مکہ میں ایک اور واقعہ ظاہر ہوا جس نے مکہ میں اسی مقادی اور یہ واقعہ اس طرح ہوا کہ عمر جو بعد میں اسلام کے دوسرے خلیفہ ہوئے اور جو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں شدید ترین دشمنوں میں سے تھے ایک دن بیٹھے بیٹھے اُن کے دل میں خیال آیا کہ اس وقت تک اسلام کے مٹانے کے لئے بہت کچھ کوششیں کی گئی ہیں مگر کامیابی نہیں ہوئی کیوں نہ اسلام کے بانی کو قتل کر دیا جائے اور اس فتنہ کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیا جائے ۔ یہ خیال آتے ہی انہوں نے تلوار اٹھائی اور گھر سے نکلے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں چل کھڑے ہوئے ۔ راستہ میں اُن کا کوئی دوست ملا اور اس حالت میں دیکھ کر کچھ حیران ہوا اور آپ سے سوال کیا کہ عمر ! کہاں جا رہے ہو؟ عمر نے کہا میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کرنے کے لئے جا رہا ہوں۔ اُس نے آگے سے کہا کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کر کے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) علیہ وسلم ) کے قبیلہ سے محفوظ رہ سکو گے؟ اور ذرا اپنے گھر کی تو خبر لو تمہاری بہن اور تمہارا بہنوئی بھی مسلمان ہو چکے ہیں۔ یہ خبر حضرت عمرؓ کے سر پر بجلی کی طرح گری انہوں نے سوچا میں جو اسلام کا بدترین دشمن ہوں، میں جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارنے کے لئے جا رہا ہوں