سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 46

صلى الله سيرة النبي علي 31 جلد 7 سے مکہ کی طرف واپس لوٹے مگر مکہ پہنچ کر اُن کو معلوم ہوا کہ یہ خبر محض شرارتاً مشہور کی گئی تھی اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ اس پر کچھ لوگ تو واپس حبشہ چلے گئے اور کچھ مکہ میں ہی ٹھہر گئے ۔ ان مکہ میں ٹھہرنے والوں میں سے عثمان بن مظعون بھی تھے جو مکہ کے ایک بہت بڑے رئیس کے بیٹے تھے ۔ اس دفعہ ان کے باپ کے ایک دوست ولید بن مغیرہ نے ان کو پناہ دی اور وہ امن سے مکہ میں رہنے لگے۔ مگر اس عرصہ میں انہوں نے دیکھا کہ بعض دوسرے مسلمانوں کو دکھ دیئے جاتے ہیں اور اُنہیں سخت سے سخت تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں۔ چونکہ وہ غیرت مند نوجوان تھے ولید کے پاس گئے اور اُسے کہہ دیا کہ میں آپ کی پناہ کو واپس کرتا ہوں کیونکہ مجھ سے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ دوسرے مسلمان دکھ اٹھائیں اور میں آرام میں رہوں ۔ چنانچہ ولید نے اعلان کر دیا کہ عثمان اب میری پناہ میں نہیں ۔ اس کے بعد ایک دن لبید عرب کا مشہور شاعر مکہ کا کے رؤسا میں بیٹھا اپنے شعر سنا رہا تھا کہ اُس نے ایک مصرع پڑھا وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلٌ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر نعمت آخر مٹ جانے والی ہے۔ عثمان نے کہا یہ غلط ہے جنت کی نعمتیں ہمیشہ قائم رہیں گی۔ لبید ایک بہت بڑا آدمی تھا یہ جواب سن کر جوش میں آگیا اور اُس نے کہا اے قریش کے لوگو! تمہارے مہمان کو تو پہلے اس طرح ذلیل نہیں کیا جا سکتا تھا اب یہ نیا رواج کب سے شروع ہوا ہے؟ اس پر ایک شخص نے کہا یہ ایک بیوقوف آدمی ہے اس کی بات کی پرواہ نہ کریں ۔ حضرت عثمان نے اپنی بات پر اصرار کیا اور کہا بیوقوفی بیوقوفی کی کیا بات ہے جو بات میں نے کہی ہے وہ سچ ہے۔ اس پر ایک شخص نے اٹھ کر زور سے آپ کے منہ پر گھونسا مارا جس سے آپ کی ایک آنکھ نکل گئی ۔ ولید اُس وقت اُس مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ عثمان کے باپ کے ساتھ اُس کی بڑی گہری دوستی تھی ۔ اپنے مردہ دوست کے بیٹے کی یہ حالت اُس سے دیکھی نہ گئی مگر مکہ کے رواج ۔ اپنے مردہ دوست کے مطابق جب عثمان اس کی پناہ میں نہیں تھے تو وہ اس کی حمایت بھی نہیں کر سکتا تھا اس