سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 45
سيرة ة النبي علي صلى الله 30 جلد 7 آپ نے کہا ام عبداللہ ! یہ تو ہجرت کے سامان نظر آ رہے ہیں ۔ اُم عبداللہ کہتی ہیں میں نے جواب میں کہا ہاں خدا کی قسم ! ہم کسی اور ملک میں چلے جائیں گے کیونکہ تم نے ہم کو بہت دکھ دیئے ہیں اور ہم پر بہت ظلم کئے ہیں ہم اُس وقت تک اپنے وطن نہیں لوٹیں گے جب تک خدا تعالیٰ ہمارے لئے کوئی آسانی اور آرام کی صورت نہ پیدا کر دے۔ ام عبد اللہ بیان کرتی ہیں کہ عمر نے جواب میں کہا اچھا! خدا تمہارے ساتھ ہو اور میں نے اُن کی آواز میں رقت محسوس کی جو اس سے پہلے میں نے کبھی نہیں محسوس کی تھی ۔ پھر وہ جلدی سے منہ پھیر کر چلے گئے اور میں نے محسوس کیا کہ اس واقعہ سے ان کی طبیعت نہایت ہی غمگین ہوگئی ہے 29۔ جب اُن لوگوں کے ہجرت کرنے کی مکہ والوں کو خبر ہوئی تو اُنہوں نے ان کا تعاقب کیا اور سمندر تک ان کے پیچھے گئے مگر یہ قافلہ ان لوگوں کے سمندر تک پہنچنے سے پہلے ہی حبشہ کی طرف روانہ ہو چکا تھا۔ جب مکہ والوں کو یہ معلوم ہوا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک وفد بادشاہ حبشہ کے پاس بھیجا جائے جو اُسے مسلمانوں کے خلاف بھڑکائے اور اُسے تحریک کرے کہ وہ مسلمانوں کو مکہ والوں کے سپرد کر دے تا کہ وہ اُنہیں ان کی اس شوخی کی سزا دیں کہ رؤسائے شہر کے ظلموں کو برداشت نہ کرتے ہوئے وہ مکہ سے کیوں بھاگے تھے ۔ اس وفد میں عمرو بن العاص بھی تھے جو بعد میں مسلمان ہو گئے اور مصر ا نہی کے ہاتھوں فتح ہوا۔ یہ وفد حبشہ گیا اور بادشاہ سے ملا اور امرائے دربار کو اُنہوں نے خوب اُکسایا لیکن اللہ تعالیٰ نے بادشاہ حبشہ کے دل کو مضبوط کر دیا اور اُس نے باوجود ان لوگوں کے اصرار کے اور باوجود درباریوں کے اصرار کے مسلمانوں کو کفار کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا۔ جب یہ وفد نا کام واپس آیا تو مکہ والوں نے ان مسلمانوں کو بلانے کے لئے ایک اور تدبیر سوچی اور وہ یہ کہ حبشہ جانے والے بعض قافلوں میں یہ خبر مشہور کر دی کہ مکہ کے سب لوگ مسلمان ہو گئے ہیں۔ جب یہ خبر حبشہ پہنچی تو اکثر مسلمان خوشی