سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 44
سيرة ة النبي علي صلى الله 29 جلد 7 آنکھیں کھولنے کیلئے کافی تھا۔ اُنہوں نے سمجھ لیا کہ گو مجھے ایمان لانے کی توفیق نہیں ملی لیکن اس ایمان کا نظارہ دیکھنے کی توفیق ملنا ہی سب دولتوں سے بڑی دولت ہے اور آپ نے کہا اے میرے بھتیجے! جا اور اپنا فرض ادا کرتا رہ ۔ قوم اگر مجھے چھوڑنا چاہتی ہے تو بیشک چھوڑ دے میں تجھے نہیں چھوڑ سکتا 28۔ حبشہ کی طرف ہجرت جب مکہ والوں کا ظلم انتہا کو پہنچ گیا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے ساتھیوں کو بلوایا اور فرمایا مغرب کی طرف سمندر پار ایک زمین ہے جہاں خدا کی عبادت کی وجہ سے ظلم نہیں کیا جاتا۔ مذہب کی تبدیلی کی وجہ سے لوگوں کو قتل نہیں کیا جاتا۔ وہاں ایک منصف بادشاہ ہے تم لوگ ہجرت کر کے وہاں چلے جاؤ شاید تمہارے لئے آسانی کی راہ پیدا ہو جائے ۔ کچھ مسلمان مرد اور عورتیں اور بچے آپ کے اس ارشاد پر ایسے سینیا کی طرف چلے گئے ۔ ان لوگوں کا مکہ سے نکلنا کوئی معمولی بات نہ تھی ۔ مکہ کے لوگ اپنے آپ کو خانہ کعبہ کا متولی سمجھتے تھے اور مکہ سے باہر چلے جانا ان کے لئے ایک خانہ کا سمجھتے مکہ جانا ان کے کعبہ متولی سمجھتے تھے نا قابل برداشت صدمہ تھا۔ وہی شخص یہ بات کہہ سکتا تھا جس کے لئے دنیا میں کوئی ٹھکانہ باقی نہ رہے۔ پس ان لوگوں کا نکلنا ایک نہایت ہی دردناک واقعہ تھا۔ پھر نکلنا بھی اُن لوگوں کو چوری ہی پڑا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر مکہ والوں کو معلوم ہو گیا تو وہ ہمیں نکلنے نہیں دیں گے اور اس وجہ سے وہ اپنے عزیزوں اور پیاروں کی آخری ملاقات سے بھی محروم جا رہے تھے ۔ اُن کے دلوں کی جو حالت تھی سو تھی اُن کے دیکھنے والے بھی ان کی تکلیف سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے ۔ چنانچہ جس وقت یہ قافلہ نکل رہا تھا حضرت عمرؓ جو اُس وقت تک کافر اور اسلام کے شدید دشمن تھے اور مسلمانوں کو تکلیف دینے والوں میں سے چوٹی کے آدمی تھے اتفاقاً اُس قافلہ کے بعض افراد کو مل گئے ۔ اُن میں ایک صحابیہ اُم عبد اللہ نامی بھی تھیں ۔ بندھے ہوئے سامان اور تیار ا بندھے ہوئے سامان اور تیار سواریوں کو جب آپ نے دیکھا تو آپ سمجھ گئے کہ یہ لوگ مکہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔