سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 476

سيرة ة النبي علي صلى الله 461 جلد 7 ضرورت تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑے بڑے شب بیدار اور عابد و زاہد نفوس عطا فرمائے ۔ غرض کون سی ضرورت تھی جو خدا تعالیٰ نے پوری نہ کی ۔ اخلاص اور فدائیت میں صحابہ کی امتیازی شان پھر اخلاص اور فدائیت کو لو تو اس میں بھی جو برکت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو ملی وہ کسی اور نبی کے متبعین کو نہیں ملی ۔ موسی کے ساتھیوں نے ایک نہایت ہی نازک موقع پر یہ کہہ دیا کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ - 157 اے موسی تو اور تیرا رب جا کر لڑتے پھرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ جاں شمار عطا فرمائے جنہوں نے بڑی دلیری سے کہا کہ يَا رَسُولَ اللہ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے 58 ۔ غرض اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر خیر اور برکت کی کثرت عطا کی ۔ اُس نے روحانی لحاظ سے ایک طرف سے آپ کو وہ شریعت عطا فرمائی جو قیامت تک منسوخ نہیں ہو سکتی اور دوسری طرف آپ کو وہ بلند مقام بخشا کہ اب قیامت تک کوئی شخص خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں شامل نہ ہو۔ اور جسمانی لحاظ سے اُس نے آپ کو خدام کی اتنی کثرت بخشی کہ سارا مکہ آپ کی زندگی میں آپ کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گیا۔ اسی طرح مال و دولت کے لحاظ سے اس مال و دولت اور رعب و دبد به قدر کثرت بخشی کہ قیصر وکسری کے خزائن مسلمانوں میں تقسیم ہوئے ۔ رعب اور دبد به اس قدر عطا فرمایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر گھر بیٹھے دشمن کا دل لرز جاتا اور اُس کا کلیجہ منہ کو آنے لگتا تھا۔ غرض ہر خیر اور برکت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی اور اس کثرت کے ساتھ دی گئی