سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 475

صلى الله سيرة النبي علي 460 جلد 7 قوم کی طرف مبعوث ہوتے رہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِينَ بنا کر بھیجا گیا اور آپ کی برکات کا دائرہ اتنا وسیع کر دیا گیا کہ دنیا کی کوئی قوم آپ کی کرد کوئی قوم آپ کے کیا غلامی سے باہر نہ رہی ۔ کرشن اور رام چندر کی تعلیم صرف ہندوستان کے لئے تھی، زرتشت کی تعلیم صرف ایران کے لئے تھی ، حضرت موسی سے لے کر حضرت مسیح تک تمام انبیا کی تعلیم بنی اسرائیل کے لئے تھی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے ہر أَسْوَد و أَحْمَر کی طرف مبعوث فرمایا اور آپ نے یہ اعلان کیا کہ بُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ كَافَّةً الأَحْمَرَ وَالاسْوَدَ 56 - وَمَا أَرْسَلْتُكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ یعنی خدا تعالیٰ نے مجھے تمام عالم انسانی کی طرف مبعوث فرمایا اور ہر أَسود وأَحْمَر میرا مخاطب ہے۔ اب خواہ ایشیا کے رہنے والے ہوں یا افریقہ کے، یورپ کے رہنے والے ہوں یا جزائر کے، پہاڑوں میں رہنے والے ہوں یا میدانوں میں، گاؤں میں رہنے والے ہوں یا شہروں میں سب پر آپ کی اطاعت فرض ہے اور کوئی شخص بھی آپ کی غلامی کا جوا اٹھائے بغیر روحانی عمارت کی اینٹ نہیں بن سکتا۔ ہر قسم کے خدام کا عطا کیا جانا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس لحاظ سے بھی خیر کثیر عطا کیا کہ اس نے ہر قسم کے انسان آپ کو عطا کئے ۔ اگر جرنیلوں کی ضرورت تھی تو اس نے آپ کو ایسے جرنیل عطا کئے جن کے تدبر کا آج یورپ تک معترف ہے، اگر مبلغوں کی ضرورت تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے مبلغ عطا فرمائے جو قرآن ہاتھ میں لے کر ساری دنیا میں نکل گئے اور انہوں نے ہزاروں لوگوں کو اسلام میں داخل کیا ، اگر جاں نثار اور فدا کار غلاموں کی ضرورت تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے مخلص جاں نثار عطا فرمائے جنہوں نے بھیڑ بکریوں کی طرح خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے سر کٹا دیئے، اگر کسی جگہ عورتوں کی فدائیت کی ضرورت پیش آئی تو عورتیں آگے آگئیں ، اگر کسی جگہ نو جوانوں کا خون قوم کو درکار تھا تو نوجوان آگے نکل آئے ، اگر قوم کی ترقی کے لئے عابد و زاہد لوگوں کی