سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 473
صلى الله سيرة النبي علي 458 جلد 7 وہ حضرت عباس سے مخاطب ہو کر کہنے لگا عباس ! تمہارے بھائی کا بیٹا آج دنیا کا سب سے بڑا بادشاہ ہو گیا ہے 55 ۔ صلى الله کفار کے بیٹے محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں آگئے پھر ان لوگوں کو اپنے بیٹوں پر بڑا ناز تھا مگر خدائی نشان دیکھ کر وہی عاص بن وائل جو بڑے تکبر سے اپنا تہبند لڑکائے پھرتا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہا کرتا تھا اُس کا اپنا بیٹا مسلمان ہو گیا۔ وہی ولید جو رات اور دن اسلام کے مٹانے پر کمر بستہ رہتا تھا اُس کا اپنا بیٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہو گیا۔ وہی ابو جہل جو تمام کفار کا لیڈ رتھا اور جس کی زندگی کی ایک ایک گھڑی اسلام کی مخالفت میں گزری اُس کا اپنا بیٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد میں شامل ہو گیا ۔ یہ ایک خطر ناک قسم کی آگ تھی جو خدا نے اُن کے دلوں میں پیدا کر دی اور جس کے شعلے اُنہیں ہر وقت جلا کر خاکستر بناتے رہتے تھے اور اُنہیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اس آگ کے بجھانے کا کیا انتظام کریں ۔ وہ خود اسلام کے دشمن تھے مگر اُن کی اولادوں نے اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈالنا شروع کر دیا اور وہ اپنے باپوں اور بھائیوں کے خلاف تلواریں چلانے لگ گئے ۔ یہ ایک بہت بڑا عذاب تھا جس میں وہ رات اور دن مبتلا رہتے تھے کہ جس مذہب کو مٹانے کے لئے اُنہوں نے اپنی عمریں صرف کر دیں وہی مذہب اُن کے گھروں میں داخل ہو گیا اور اُس نے اُنہی کے بیٹوں کو اُس کا شکار بنالیا۔ کون ابتر ثابت ہوا ؟ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار قد وسیوں کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے تو اُس وقت گو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اُنہیں کچھ نہیں کہہ رہی تھی مگر مکہ کی گلیوں کی وہ زمین جس پر ان قدوسیوں کے قدم پڑ رہے تھے اُن دشمنوں کو مخاطب کر کے