سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 472
سيرة النبي علي رض صلى الله 457 جلد 7 تھی اس لئے دشمن صحابہ پر گزر رہی تھی اور چونکہ آپ کے ہاں کوئی نرینہ اولاد بھی نہیں تھی اس اپی نا بینائی کی وجہ سے کہتا کہ یہ نَعُوذُ بِاللهِ اونتر اکھتر، یعنی بے نسل ہے نہ روحانی لحاظ سے اس کی کوئی جمعیت ہے اور نہ جسمانی لحاظ سے اس کی کوئی نرینہ اولاد ہے۔ ایسے حالات میں خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی اور اُس نے کہا اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تجھے خیر کثیر عطا کرنے والے ہیں اور تیرے ان مخالفوں کو جو آج تجھے مٹانے پر کمر بستہ ہیں ابتر بنانے والے ہیں ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کلام پر جوں جوں دن گزرتے چلے گئے محمد رسول اللہ زیادہ سے زیادہ خیر کثیر ملتی چلی گئی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ سے زیادہ خیر اور برکت ملتی چلی گئی اور آپ کے مخالفوں کے حصہ میں زیادہ سے زیادہ نا کامی اور نامرادی آتی گئی اور آخر وہ دن آیا کہ وہی شخص جسے اندھیری رات میں مکہ سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا، جس کے قتل کے منصوبے کئے گئے تھے، جس کو مٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا گیا تھا دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوا اور اُس نے تمام مکہ کے لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر کے پوچھا کہ بتاؤ اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ انہوں نے کہا ہم آپ سے اسی سلوک کی امید رکھتے ہیں جو یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا ۔ آپ نے فرمایا جاؤ میں نے تم سب کو معاف کر دیا 54 ۔ ابوسفیان کا اقرار کہ محمد رسول اللہ ﷺ مکہ کے لوگ سمجھے تھے کہ یہ اکیلا شخص کب تک اپنے مشن کو قائم رکھ سکتا دنیا کا سب سے بڑا بادشاہ ہو گیا ہے ہے یہ آج نہیں تو کل تباہ ہو جائے گا مگر خدا اسے کوثر دینے کا وعدہ فرما چکا تھا۔ اُس نے آپ کے ماننے والوں میں اتنی کثرت پیدا کی کہ ابوسفیان نے جب فتح مکہ کے موقع پر اسلامی لشکر کو دیکھا تو بے اختیار