سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 471
صلى الله سيرة النبي علي 456 نہ مانے اور آخر اس نے اپنی پناہ کے واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ جلد 7 ایک دن عرب کے مشہور شاعر لبید جو بعد میں اسلام بھی لے آئے تھے مکہ میں آئے اور انہوں نے رؤسا کی محفل میں اپنے اشعار سنانے شروع کر دیئے۔ سناتے سناتے انہوں نے یہ مصرعہ پڑھا کہ الا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ اے لوگو سنو کہ خدا کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ حضرت عثمان بن مظعون یہ مصرعہ سنتے ہی بول اٹھے کہ خوب کہا تم نے بڑی سچی بات کہی ہے۔ اب گوانہوں نے لبید کے مصرعہ کی داد دی تھی مگر لبید ایک نوجوان کی تعریف بھی برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے اسے تعریض سمجھتے ہوئے شعر پڑھنے بند کر دیئے اور کہا اے مکہ والو! کیا تم میں اب کوئی شریف آدمی نہیں رہا کہ یہ کل کا بچہ مجھے داد دیتا ہے۔ اس پر لوگوں نے معذرت کی اور حضرت عثمان بن مظعون کو ڈانٹا کہ خاموش رہو۔ اس کے بعد لبید نے دوسرا مصرعہ پڑھا جو یہ تھا کہ وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلُ یعنی ہر نعمت آخر تباہ ہونے والی ہے۔ حضرت عثمان پھر بول اٹھے کہ یہ بالکل غلط ہے جنت کی نعمتیں کبھی تباہ نہیں ہوں گی۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ لبید غصہ میں آگیا اور انہوں نے کہا میری ہتک کی گئی ہے اب میں اپنا کلام نہیں سناؤں گا ۔ یہ دیکھ کر ایک شخص اٹھا اور اُس نے اس زور سے اُن کی آنکھ پر مکا مارا کہ ان کا ایک ڈیلا باہر نکل آیا۔ یہ دیکھ کر مکہ کا وہی رئیس جس نے انہیں پناہ دی تھی حسرت کے ساتھ آگے بڑھا اور کہنے لگا کیا میں نہیں کہتا تھا کہ میری پناہ نہ چھوڑ ۔ وہ کہنے لگے تم تو یہ کہتے ہو خدا کی قسم ! میری تو دوسری آنکھ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں نکلنے کے لئے تیار ہے 53 ۔ غرض یہ وہ حالت تھی جو رسول نرینہ اولا دہ ہونے پر دشمن کی طعنہ زنی یا یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے