سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 470

لله صلى الله سيرة ابي عليه 455 جلد 7 کے جوش میں وہاں چلے جاتے اور نماز ادا فرماتے ۔ ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ شہر کے غنڈے اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے آپ کو پیٹنا شروع کر دیا اور پھر آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر اُسے گھونٹنے لگے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ دوڑے دوڑے وہاں آئے اور انہیں ہٹانا شروع کیا۔ اُس وقت وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خون پو نچھتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ اے میری قوم ! تم کو کیا ہو گیا کہ تم ایک ایسے شخص کو مارتے ہو جس کا قصور سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے 52۔ اسی طرح آپ پر ایمان لانے والوں کو طرح طرح کے دکھ دیئے جاتے ۔ حضرت عثمان بن مظعون کا واقعہ حضرت عثمان بن مظعون ایک بہت بڑے رئیس کی اولاد میں سے تھے ۔ ہجرت اولی کے وقت وہ ابی سینیا (ABYSSINIA) کی طرف چلے گئے تھے مگر بعد میں کفار نے یہ خبر اڑا دی کہ مکہ کے تمام لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اس پر بعض لوگ حبشہ سے واپس آگئے جن میں حضرت عثمان بن مظعون بھی شامل تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ خبر جھوٹی تھی تو انہوں نے دوبارہ ابی سینیا جانے کا ارادہ کیا۔ اس پر مکہ کا ایک رئیس جو اُن کے باپ کا گہرا دوست تھا اُن سے ملا اور اُس نے کہا تم واپس نہ جاؤ میں تمہیں اپنی پناہ میں لے لیتا ہوں ۔ چنانچہ مروجہ دستور کے مطابق وہ اُنہیں خانہ کعبہ میں لے گیا اور وہاں اُس نے اعلان کر دیا کہ عثمان بن مظعون میری حفاظت میں ہے اب کوئی شخص اسے تکلیف نہ پہنچائے ۔ اس اعلان کے نتیجہ میں عثمان بن مظعون کھلے بندوں مکہ میں پھرنے لگے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ دوسرے مسلمانوں کو مارتے پیٹتے ہیں تو اُن کی غیرت جوش میں آئی اور وہ اُس رئیس کے پاس آ کر کہنے لگے کہ میں آپ کی پناہ میں نہیں رہنا چاہتا کیونکہ مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو سکتا کہ میں تو آرام سے پھروں اور دوسرے مسلمان تکلیفیں اٹھا ئیں ۔ اُس نے بہت سمجھایا مگر وہ