سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 469
لله صلى الله سيرة ابي عليه صلى 454 جلد 7 پر اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو جا اور قربانیوں پر زور دے یقیناً تیرا دشمن ہی ابتر رہے گا۔ کوثر کے معنے کوثر کے معنے عربی زبان میں ہرقسم کی خیر اور برکت اور بھلائی کی کثرت کے ہوتے ہیں 51 گویا کوئی خیر نہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل نہیں ہوئی اور کوئی برکت نہیں جو آپ کو نہیں ملے گی اور پھر وہ خیر اور برکت اتنی کثرت کے ساتھ ملے گی کہ اس کثرت میں بھی دنیا کا کوئی انسان آپ کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ سورۃ کوثر کے نزول کے وقت رسول اللہ جس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس انعام کا صلى الله علیم اور آپ کے صحابہ کی حالت اعلان کیا گیا آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی یہ حالت تھی کہ باہر نکل کر نماز بھی ادا نہیں کر سکتے تھے اور آپ کے پیغام کو ماننے والے صرف چند افراد تھے جو انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اُس وقت تک مکہ کے کل 82 آدمی آپ پر ایمان لائے تھے مگر یہ تو آخری دنوں کی بات ہے اس سے پہلے یہ حالت تھی کہ صرف چند آدمی جن کی تعداد دس پندرہ سے زیادہ نہیں تھی آپ پر ایمان لائے ۔ مکہ کی آبادی اُس وقت آٹھ دس ہزار کی تھی اور آٹھ دس ہزار کی آبادی میں سے ایک دو درجن کے قریب آدمیوں کا ساتھ ہونا اور سارے شہر کے لوگوں کا مخالف ہونا اور ایسا مخالف ہونا کہ ہر وقت ان کا مسلمانوں کی جان لینے کی فکر میں رہنا بتاتا ہے کہ مسلمانوں کی اُس وقت کیسی نازک حالت تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت تھی کہ گو آپ کو خانہ کعبہ میں جا کر نماز پڑھنے کی خانہ کا گلا گھونٹنے کی کوشش اجازت نہیں تھی مگر کبھی کبھی آپ محبت الہی