سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 468

سيرة ة النبي علي صلى الله 453 جلد 7 تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث سے ثابت ہے کہ آپ رات کو اللہ تعالیٰ کے حضور اتنی اتنی دیر عبادت میں کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے 48 ۔ ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ يَا رَسُولَ الله! آپ اس قدر عبادت کیوں کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مغفرت کا وعدہ فرمایا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ! کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں 49 میدان جنگ میں بھی اسی طرح صحابہ کی یہ حالت تھی کہ میدان جنگ میں بھی وہ نمازوں کی ادائیگی کا التزام رکھتے نمازوں کی بالالتزام ادائیگی تھے اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ تعالی کے حضور سر بسجو د رہتے اور دعاؤں اور ذکر الہی میں اپنا وقت گزارتے ۔ غرض دنیوی درباروں میں بادشاہوں کی طرف سے جو خطابات دیئے جاتے ہیں وہ بسا اوقات حقیقت کے برعکس ہوتے ہیں مگر یہ عجیب دربار ہے کہ اس میں بادشاہ کی طرف سے جو خطاب دیا جاتا ہے وہ حقیقت کے عین مطابق ہوتا ہے اور پھر وہ خطاب چلتا چلا جاتا ہے دنیا لاکھ کوشش کرے زمانہ میں ہزاروں انقلاب آئیں اُس خطاب کو کوئی طاقت بدل نہیں سکتی ۔ در بار خاص میں انعامات کا اعلان اب میں اُن بعض انعامات کا ذکر کرتا ہوں جو اس الہی دربار میں خدا تعالیٰ نے اپنے گورنر جنرل کو عطا کئے اور جن کی نظیر دنیا کے درباروں میں اور کہیں نظر نہیں آسکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دربارِ خاص میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور اُن کے لئے اپنے خاص انعامات کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ إِنَّا أَعْطَيْنُكَ الْكَوْثَرَ - فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ - إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ 50 - یعنی اے ہمارے گورنر جنرل ! ہم نے تجھے کوثر عطا کیا ہے پس تو اس نعمت عظیمہ کی شکر گزاری کے طور