سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 467

صلى الله سيرة النبي علي 452 جلد 7 صادر فرمائیں تو پھر یہ کام میرے سپرد کیا جائے تا کہ کسی اور مسلمان کا بغض میرے دل میں پیدا نہ ہو۔ ایک معمولی شکر رنجی کے موقع پر اسی طرح ایک دفعہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ میں کسی بات پر شکر رنجی حضرت ابوبکر کے پاکیزہ جذبات ہوگئی ۔ غلطی حضرت عمر کی تھی مگر جب ابوبکر آگے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمررؓ پر ناراض ہونے لگے تو حضرت ابو بڑھے اور کہنے لگے يَا رَسُولَ اللہ ! میرا قصور تھا عمر کا کوئی قصور نہیں تھا 46۔ گویا جس طرح ایک ماں اپنے بچے کے متعلق استاد سے شکایت کرتی ہے لیکن جب وہ ڈانٹتا ہے تو سب سے زیادہ دکھ بھی ماں کو ہی ہوتا ہے یہی حال صحابہؓ کا تھا اُن کے دلوں میں اپنے بھائیوں کی اتنی محبت پائی جاتی تھی کہ وہ ان کی معمولی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ حضرت عمرؓ کا ایک بدوی عورت حضرت عمرؓ کو دیکھ لو اُن کے رعب اور دبدبہ سے ایک طرف دنیا کے بڑے کے بچوں کے فاقہ پر تلملا اٹھنا بڑے بادشاہ کا نپتے تھے، قیصر و کسری کی حکومتیں تک لرزہ بر اندام رہتی تھیں مگر دوسری طرف اندھیری رات میں ایک بدوی براندام عورت کے بچوں کو بھوکا دیکھ کر عمر جیسا عظیم المرتبت انسان تلملا اٹھا اور وہ اپنی پیٹھ پر آٹے کی بوری لاد کر اور گھی کا ڈبہ اپنے ہاتھ میں اٹھا کر اُن کے پاس پہنچا اور اُس وقت تک واپس نہیں لوٹا جب تک کہ اُس نے اپنے ہاتھ سے کھانا پکا کر اُن بچوں کو نہ کھلا لیا اور وہ اطمینان سے سو نہ گئے 47۔ عروسی اور عبادت الہی میں رسول کریم پھر اللہ تعلی نے بتایا تھا کہ محمدرسول الله الله آپ کے ساتھی صرف أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ صلی اللہ علیہ وسلم کا استغراق اور رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ہی نہیں بلکہ رُكَّعًا سُجَّدًا کے بھی مصداق ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ خوبی بھی اُن میں نمایاں طور پر پائی جاتی