سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 466
سيرة النبي علي صلى الله 451 جلد 7 تھا میں اگر چاہتا تو آپ کو قتل کر سکتا تھا مگر میں نے کہا باپ کو مارنا درست نہیں ۔ حضرت ابو بکر نے جواب دیا خدا نے تجھے ایمان نصیب کرنا تھا اس لئے تو بیچ ہیں۔ حضرت ابو بکر نے جواب دیا خدا نے مجھے ایمان نصیر گیا ورنہ خدا کی قسم ! اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو ضرور مار ڈالتا 44 ۔ عبد اللہ بن اُبی بن سلول ایک جنگ کے موقع پر انصار اور مہاجرین میں جھگڑا پیدا ہو گیا ۔ اُس وقت عبداللہ بن اُبی بن سلول جو کے بیٹے کا اخلاص ایک دیر بیٹہ منافق تھا اُس نے سمجھا کہ یہ انصار کو بھڑ کانے کا اچھا موقع ہے ۔ وہ آگے بڑھا اور اُس نے کہا اے انصار ! یہ تمہاری غلطیوں کا نتیجہ ہے کہ تم نے مہاجرین کو سر چڑھا لیا اب مجھے مدینہ پہنچ لینے دو پھر دیکھو گے کہ مدینہ کا سب سے زیادہ معزز شخص یعنی نَعُوذُ بِاللهِ وہ خود مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی یعنی نعوذ بالله محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے نکال دے گا۔ عبداللہ کا بیٹا ایک سچا مسلمان تھا جب اُس نے اپنے باپ کی یہ بات سنی تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ الله ! میرے باپ نے جو بات کہی ہے اُس کی سزا سوائے قتل کے اور کوئی نہیں ہو سکتی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ اسے یہی سزا دیں گے لیکن اگر آپ نے کسی اور مسلمان کو کہا اور اُس نے میرے باپ کو قتل کر دیا تو ممکن ہے اُس کو دیکھ کر میرے دل میں کبھی خیال آجائے کہ یہ میرے باپ کا قاتل ہے اور میں جوش میں آکر اُس پر حملہ کر بیٹھوں اس لئے يَا رَسُولَ الله! آپ مجھے حکم دیجئے کہ میں اپنے باپ کو اپنے ہاتھوں سے قتل کروں تا کہ کسی مسلمان کا بغض میرے دل میں پیدا نہ ہو 45۔ یہ واقعہ کس طرح اُن دونوں اوصاف کو ظاہر کر رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام میں ودیعت کر دیئے تھے یعنی ایک طرف وہ کفر کے لئے ایک ننگی تلوار تھے اور دوسری طرف اپنے بھائیوں کے جذبات کا انہیں اتنا احساس تھا کہ عبداللہ کے بیٹے نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنا احساس تھا کہ عبد اللہ کے ملنے کے سے آکر درخواست کی کہ يَا رَسُولَ الله! اگر آپ میرے باپ کے متعلق قتل کا حکم