سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 463

صلى الله سيرة النبي علي 448 جلد 7 آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں اور پھر چاہتے ہیں کہ وہ اندازہ سے بتائے کہ کس نے پر ہے اُس کی آنکھوں ۔ ھوں پر ہاتھ رکھا ہے اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی سے اُس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔ اُس نے آپ کے ملائم ہاتھوں کو ٹٹول کر سمجھ لیا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو محبت کے جوش میں اُس نے اپنا پسینہ سے بھرا ہوا جسم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کے ساتھ ملنا شروع کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے اور آخر آپ نے فرمایا میرے پاس ایک غلام ہے کیا اس کا کوئی خریدار ہے؟ اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ! میرا خریدار دنیا میں کون ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا ایسا مت کہو خدا کے حضور تمہاری بڑی قیمت ہے 40۔ عورتوں کی تکلیف کا احساس ایک دفعہ آپ نے فرمایا جب میں نماز پڑھاتا ہوں تو بعض دفعہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں نماز کو لمبا کروں مگر اچانک میرے کانوں میں کسی بچہ کے رونے کی آواز آجاتی ہے اس پر میں جلدی جلدی نماز پڑھا دیتا ہوں تا کہ اس کی ماں کو تکلیف نہ ہو 41 ۔ دیتا تا کی نہ ہو 41۔ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ہمیں دونوں قسم کے نظارے نظر آتے ۔ ہیں ۔ وہ نظارے بھی جن میں آپ دشمن کے سامنے ایک ننگی تلوار کی طرح کھڑے ہو گئے اور نہ اس کی دھمکیوں سے مرعوب ہوئے نہ اس کی خوشامد سے متاثر ہوئے ۔ اور وہ نظارے بھی جن میں آپ نے اپنے ماننے والوں سے ایسی شفقت اور محبت کا سلوک کیا کہ کوئی ماں بھی اپنے بچوں سے اس شفقت کا اظہار نہیں کرتی ۔ جنگ بدر میں صحابہ کا دشمن کیلئے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے متبعین میں بھی یہ دونوں اوصاف پیدا به پیغام موت بن کر ظاہر ہونا فرما دیئے تھے اور وہ بھی اگر ایک طرف أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ کی صفت کے حامل تھے تو دوسری طرف ماننے والوں کے لئے مجسمہ رحم والفت تھے ۔ چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بدر کی جنگ