سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 464
سيرة ة النبي علي صلى الله 449 جلد 7 ہوئی تو اس جنگ میں صرف 313 آدمی مسلمانوں کی طرف سے شریک ہوئے اور وہ بھی بالکل بے سروسامان اور نا تجربہ کار تھے لیکن دشمن کا ایک ہزار سپاہی تھا اور پھر وہ سارے کا سارا تجربہ کار آدمیوں پر مشتمل تھا اور اسلحہ کی بھی بڑی بھاری مقدار اُن کے پاس موجود تھی ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی تھی کہ ابو جہل نے ایک عرب سردار سے کہا کہ تم جاؤ اور یہ اندازہ کر کے آؤ کہ مسلمانوں کی کتنی تعداد ہے؟ جب وہ اسلامی لشکر کا جائزہ لینے کے بعد واپس گیا تو اُس نے کہا میرا اندازہ یہ ہے کہ مسلمان تین سو اور سوا تین سو کے درمیان ہیں ۔ ابو جہل اس پر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہم نے میدان مارلیا۔ اُس نے کہا اے میری قوم! بیشک مسلمان تھوڑے ہیں لیکن میرا مشورہ یہی ہے کہ مسلمانوں سے لڑائی نہ کرو۔ انہوں نے کہا تو بڑا بزدل ہے آج ہی یہ لوگ قابو آئے ہیں اور آج ہی تو ہمیں ایسا بزدلانہ مشورہ دے رہا ہے۔ اُس نے کہا یہ درست ہے مگر پھر بھی میں تمہیں یہی مشورہ دوں گا کہ جنگ نہ کرو کیونکہ اے میری قوم! میں نے اونٹوں پر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار دیکھی ہیں 42 یعنی میں نے جس شخص کو بھی دیکھا اُس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ اس نیت اور ارادہ کے ساتھ میدانِ جنگ میں آیا ہے کہ آج مر جانا ہے یا مار دینا ہے اس کے سوا اور کوئی جذبہ ان کے دلوں میں نہیں پایا جاتا تھا۔ یہ فدائیت کا بے مثال جذبہ مسلمانوں میں اسی لئے پیدا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ صفت کا حامل بنایا تھا اور وہ تھوڑی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی بڑے بھاری بھار تجربہ کار اور مسلح لشکر کے مقابلہ میں پیغام موت موت بن بن کے کر نمودار ہوتے تھے ۔ اہلِ عرب کے ارتداد پر حضرت اسی طرح جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو سارا عرب مرتد ہو گیا اور ابوبکر کی حیرت انگیز جرات حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ جیسے بہادر انسان بھی اس فتنہ کو دیکھ کر گھبرا گئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے قریب ایک لشکر رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا اور حضرت اسامہ کو اس کا افسر