سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 462
ة صلى الله سيرة النبي علي 447 جلد 7 نے اس کے مطالبہ کو رد کر دیا اور اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہ کی کہ اس کے نتیجہ میں کیا مشکلات آسکتی ہیں ۔ آسکتی ۔ ایک صحابی کی درخواست پر رسول کریم مگر جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے مقابلہ میں صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے اپنی چادر دے دینا ایک ایسے پہاڑ کی حیثیت رکھتے تھے جس سے ٹکرا کر انسان کا سر پاش پاش ہو جاتا ہے مگر پہاڑ اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا وہاں اپنے ماننے والوں کے متعلق آپ کے دل میں اس قدر محبت اور پیار کے جذبات پائے جاتے تھے کہ احادیث میں لکھا ہے ایک دفعہ ایک مخلص عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خوبصورت چادر پیش کی جو اس نے اپنے ہاتھ سے بنی تھی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ اسے اپنی ذات کے لئے استعمال فرمائیں۔ اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ چادر پہن کر باہر تشریف لائے تو ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ چادر مجھے دے دیجئے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُس چادر کی خود ضرورت تھی مگر آپ نے اُس کے سوال کو رد کرنا مناسب نہ سمجھا اور فوراً واپس آکر اُسے چادر بھجوا دی ۔ لوگوں نے اسے ملامت کی کہ تم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چادر کیوں مانگ لی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اس کی خود ضرورت تھی ۔ اُس نے کہا میں نے یہ چادر اپنے کفن کے لئے لی ہے چنانچہ راوی کہتا ہے کہ بعد میں وہی چادر اُس کا کفن بنی 39 ۔ غرباء کی دلداری اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تشریف لے جا رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک غریب صحابی جو اتفاقی طور پر بدصورت بھی تھے سخت گرمی کے موسم میں اسباب اٹھا رہے ہیں اور اُن کا تمام تما جسم پسینہ اور اور گردو غبار سے اٹا ہوا ۔ ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی سے ان کے پیچھے چلے گئے اور جس طرح بچے کھیل میں چوری چھپے دوسرے کی