سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 459

سيرة ة النبي علي صلى الله 444 جلد 7 اور رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ہیں یعنی یہ نہیں کہ وہ ہر اثر کو قبول کرنے والے ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ شیطان کا اثر بھی قبول کر لیتے ۔ اور یہ بھی نہیں کہ کسی کا اثر قبول نہ کریں کیونکہ اس صورت میں وہ فرشتوں کے اثر کو بھی رد کر دیتے بلکہ اُن کے اندر یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں یہ بھی طاقت ہے کہ خواہ کتنے ہی تکلیف دہ نتائج ہوں پھر بھی وہ کسی غلط اثر کو قبول نہیں کرتے اور یہ بھی طاقت ہے کہ خواہ حالات کتنے مخالف ہوں وہ اچھی چیز کے اثر کو رد نہیں کرتے ۔ جب کسی ایسی چیز کا سوال ہو جو مذہب اور دین کے خلاف ہو تو وہ ایک ایسے پہاڑ کی مانند بن جاتے ہیں جس پر کوئی چیز اثر نہیں کر سکتی لیکن جہاں تقویٰ اور باہمی اخوت اور برادرانہ تعلقات کا سوال ہو وہاں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ تصویر لینے کا ایک شیشہ ہیں اور فوراً اس کے عکس کو قبول کر لیتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ سول کریم صلی اللہ علیہ سلم اور آپ کے صحابہ کی زندگی میں یہ دونوں ی میں یہ دونوں اور آپ کے صحابہؓ کا نمونہ باتیں نہایت نمایاں طور پر پائی جاتی تھیں یعنی ایک طرف تو غیرت میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ دین کے خلاف کوئی بات سننا تک برداشت نہیں کر سکتے تھے اور دوسری طرف وہ محبت میں اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ اپنے بھائیوں کا کوئی قصور اُنہیں نظر ہی نہیں آتا تھا۔ چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دشمنوں نے کئی مواقع پر چاہا کہ آپ ان کے بارہ میں نرمی سے کام لیں اور اُن کے بتوں کی تنقیص نہ کریں مگر آپ نے کسی مرحلہ پر بھی اُن کے آگے سر نہیں جھکا یا حالانکہ آپ جانتے تھے کہ اس انکار کے نتیجہ میں ان لوگوں کی آتش غضب اور بھی بھڑک اٹھے گی اور یہ پہلے سے زیادہ جوش اور انتظامی قوت کے ساتھ اسلام کو مٹانے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں گے مگر آپ نے اپنی یا اپنے عزیزوں اور ساتھیوں کی مشکلات کی کوئی پرواہ نہ کی اور ہمیشہ انہیں یہی کہا کہ خدا نے جس پیغام