سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 458
سيرة ة النبي علي صلى الله 443 جلد 7 مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ ط تَرَبَّهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانًا سِيْمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ 36 یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور وہ لوگ جو اُن پر ایمان لاکر ان کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں کفار کے لئے بڑے سخت واقع ہوئے ہیں مگر ان کا آپس میں سلوک انتہائی رحم اور شفقت پر مبنی ہے۔ تو انہیں دیکھے گا کہ وہ رات اور دن خدا تعالیٰ کے حضور رکوع و سجود میں بسر کرتے اور اُس کا فضل تلاش کرتے ہیں اور اُس کی رضا کے حصول کے لئے ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں اور ان کی اس پاکیزہ زندگی کا نشان خود ان کے چہروں سے عیاں ہو گیا ہے۔ قوت مؤثرہ اور قوت متاثرہ کے کرشمے حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ ایک طرف تو تو اپنے گردو پیش کے اثرات کو قبول کرنے کے کے لئے بڑی شدت سے سے مائل رہتا ہے اور دوسری طرف اس میں یہ بھی طاقت ہے کہ اگر چاہے تو وہ ایسے اثرات کو قبول کرنے سے انکار کر دے۔ گویا ایک طرف تو وہ ایک مضبوط چٹان ہے کہ جس سے سمندر کی تیز لہریں ٹکرا کر واپس لوٹ جاتی ہیں اور اُس پر ذرا بھی نشان پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتیں اور دوسری طرف وہ ایک اسفنج کے ٹکڑے کی طرح یا نرم موم کی طرح ہے کہ اُس پر ہاتھ ڈالتے ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں طاقت مقابلہ ہے ہی نہیں اور یہی دونوں چیزیں انسان کے تمام اعمال کی جڑ ہیں یعنی کسی جگہ پر اثر قبول کرنا اور کسی جگہ پر اُس کو رد کر دینا ۔ صلى الله اچھے اثرات کو قبول کرنے اور اس جگہ محمدرسول اللہ ﷺ اور آپ کے اتباع کے متعلق یہ بیان کیا گیا برے اثرات کو رد کرنے کی خوبی ہے کہ وہ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ