سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 457

سيرة النبي علي صلى الله 442 جلد 7 ہر قسم کے بغض اور کینہ سے مبرا وجود اسی طرح اللہ تعالی اس دیوان خاص ہر والے در بایوں کی نسبت فرماتا ہے کہ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّتٍ وَعُيُونٍ - اُدْخُلُوهَا بِسَلَمٍ آمِنِينَ - وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلَّ اِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُّتَقْبِلِين - 35 یعنی متقی لوگ باغات اور چشموں والے مقامات میں ہوں گے اور انہیں کہا جائے گا کہ تم سلامتی کے ساتھ ان میں داخل ہو جاؤ اور ان کے سینوں کو ہر قسم کے بغض اور کینہ اور حسد سے پاک کر دیا جائے گا اور وہ بھائی بھائی بن کر جنت میں رہیں گے۔ الہی خطابات کو چھینے کی غرض این دربار میں خطابات تقسیم ہوتے ہیں تو با ہم چپقلش اور رقابت شروع نہیں ہو جاتی اور کوئی شخص طاقت نہیں رکھتا پھر خطابات ملتے ہیں تو وہ نہ صرف حقیقت کے مطابق ہوتے ہیں بلکہ دنیا لاکھ کوشش کرے وہ اُن کو چھیننے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اس ہیں بلکہ دنیالا کی وہ دربار سے اگر کسی کو نبی کا خطاب دیا گیا تو وہ نبی فوت ہو چکا اور ہزار ہا برس اُس کی وفات پر گزر گئے مگر نبی کا خطاب موجود ہے اور اگر اس سے کوئی منکر ہوتا ہے تو فوراً باغیوں میں شریک ہو جاتا ہے۔ حکومت بدل گئی ، گورنر کے بعد گورنر تبدیل ہوئے مگر مجال ہے کہ پرانے گورنر کی کوئی ہتک کر سکے اور اُس کے درجہ کو کم کر سکے ۔ غرض یہ وہ دربار ہے جس میں درباری کو جو خطاب دیا جاتا ہے اُس کے چھینٹے کی کسی میں طاقت نہیں ہوتی اور پھر جو خطاب دیا جاتا ہے وہ بالکل سچا اور حقیقت کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر کسی کو بہادر کہتا ہے تو وہ بہادر ہی ہوتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ حکومت اسے خان بہادر کہے اور وہ ایک چوہے سے بھی ڈرتا رہے۔ 66 محمد رسول اللہ اور صحابہ کرام پھر ہم نے دیکھا کہ اس قسم کا ایک اور اعلان ام بھی اس, اس دربار سے ہو رہا تھا اور دربار خاص کا کو ایک اور عظیم الشان خطاب مالک اپنے گورنر جنرل کے متعلق کہہ رہا تھا کہ