سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 456

صلى الله سيرة النبي علي 441 جلد 7 اپنے دربار میں صحابہ کرام کو دیا۔ آج صحابہؓ کے زمانہ پر تیرہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر آج بھی وہ خطاب جو خدا نے اُن کو دیا تھا قائم ہے اور رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ رقابت اور عناد سے پاک دربار پھر دنیوی بادشاہوں کے دیوان خاص میں باریاب ہونے والوں کو خطابات ملتے ہیں تو باہم رقابت اور دشمنی اور لڑائی شروع ہو جاتی ہے لیکن اس دیوانِ خاص میں شریک ہونے والوں کے دلوں میں کوئی رقابت کوئی دشمنی اور کوئی لڑائی نہیں ہوتی بلکہ ان کے دل ایک دوسرے کی محبت اور پیار کے جذبات سے لبریز ہوتے ہیں۔ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاءُ وَ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقَوْنَا بِالْإِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوْبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ - 34- یعنی بعد میں آنے والے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعائیں کرتے - رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو ہمیں بھی بخش اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش جو ہم سے ایمان لانے میں سبقت اختیار کر چکے ہیں اور ہمارے دلوں کو اُن کے متعلق ہر قسم کے کینہ اور بغض سے صاف کر دے۔ اے ہمارے رب ! تو بڑا مہربان اور بڑا رحم کرنے والا ہے ۔ تعلقات کی خرابی کی تین وجوہ دنیا میں تعلقات کی تمام تر خرابی حسد، رقابت اور آئندہ کے خطرات کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ حسد پہلوں سے ہوتا ہے، رقابت ہم عصروں سے ہوتی ہے اور خطرہ بعد میں آنے والوں سے ہوتا ہے۔ لِلَّذِينَ آمَنُوا کہہ کر ایک سچا مؤمن ان تینوں نقائص سے اپنا دل صاف رکھنے کی خواہش کرتا ہے گویا اس کا دل ایسا پاکیزہ ہوتا ہے کہ اس میں نہ پہلوں کا حسد ہوتا ہے، نہ ہم عصروں کی رقابت ہوتی ہے اور نہ بعد میں آنے والوں کے متعلق کوئی بدظنی ہوتی ہے۔