سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 455
سيرة النبي علي صلى الله 440 جلد 7 تھا اور جب میں شدت ضعف سے بیہوش ہو جاتا تھا تو لوگ میرے سر پر جوتے مارتے اور سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے۔ پھر حضرت ابو ہریرہ کسی اعلیٰ خاندان میں سے نہ تھے کوئی نامور لیڈر یا مشہور ادیب نہ تھے کوئی فوجی ماہر یا سیاسی نفوذ رکھنے والے انسان نہ تھے مگر آج بھی ہماری یہ کیفیت ہے کہ ابو ہریرہ کا نام آتا ہے تو رَضِيَ الله عَنْهُمْ کہے بغیر دل کو چین ہی نہیں آتا۔ حضرت ابوبکر رضي الله عَنْهُ کا بلند مقام اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جو حالت تھی وہ خود ان کے باپ کی شہادت سے ظاہر ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے باپ کا نام ابوقحافہ تھا جب حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے تو اُس وقت ابو قحافہ مکہ میں تھے کسی شخص نے وہاں جا کر ذکر کیا کہ ابو بکر عرب کا بادشاہ ہو گیا ہے ۔ ابو قحافہ مجلس میں بیٹھے تھے کہنے لگے کون سا ابوبکر ؟ اُس نے کہا وہی ابو بکر قریشی ۔ کہنے لگے کون سا قریشی ؟ اُس نے کہا وہی جو تمہارا بیٹا ہے اور کون ۔ وہ کہنے لگے واہ ! ابو قحافہ کے بیٹے کو عرب اپنا بادشاہ مان لیں یہ کیسے ہو سکتا ہے تو بھی عجیب باتیں کرتا ہے 33۔ غرض ابوقحافہ کی یہ حالت تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے متعلق یہ مان ہی نہیں سکتے تھے کہ سارا عرب اُنہیں بادشاہ تسلیم کرلے گا مگر اسلام کی خدمت اور دین کے لئے قربانیاں کرنے کی وجہ سے آج حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جو عظمت حاصل ہے وہ دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہوں کو بھی حاصل نہیں ۔ آج دنیا کے بادشاہوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں جسے اتنی عظمت حاصل ہو جتنی حضرت ابو بکر کو حاصل ہے بلکہ حضرت ابوبکر تو الگ رہے کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو اتنی عظمت حاصل نہیں جتنی مسلمانوں کے نزدیک ابوبکر کے نوکروں کو حاصل ہے اس لئے کہ اُس نے ہمارے رب کے دروازہ پر سجدہ کیا اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے در کا غلام ہو گیا اب یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص اس عظمت کو ہمارے دلوں سے محو کر سکے اور اُس خطاب کو چھین سکے جو اس نے