سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 454

صلى الله سيرة النبي علي ة 439 جلد 7 مزدور بھی سکندر کا نام نہایت بے پروائی سے لیتا ہے۔ بچے بھی سکندر سکندر کہتے پھرتے ہیں اور کوئی ادب کا لفظ اُس کے لئے استعمال نہیں کرتا ۔ دارا بھی ایک عظیم الشان بادشاہ تھا اور گو اسے سکندر کے مقابلہ میں شکست ہوئی مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ بھی زبردست سلطنت کا مالک تھا اور چین تک اس کی حکومت پھیلی ہوئی تھی مگر آج لوگ اسے دارا دارا کہتے پھرتے ہیں بادشاہ کا لفظ بھی اُس کے متعلق استعمال نہیں کرتے ۔ تیمور جو ایک زمانہ میں دنیا کے لئے قیامت بن گیا تھا آج اسے ساری دنیا تیمور لنگ یعنی لنگڑا تیمور کہتی ہے حالانکہ اپنے زمانہ میں اُس کی اتنی ہیبت تھی کہ جب وہ حملہ کرتا تو گشتوں کے پشتے لگا دیتا اور بعض جگہ تو لوگوں کو مار مار کر اُن کی لاشوں کو جمع کرتا اور مینار کھڑا کر دیتا ۔ بعض مؤرخ کہتے ہیں کہ اُس نے کئی لاکھ آدمی قتل کیا ہے مگر اب ایک ذلیل سے ذلیل انسان بھی جب تیمور کا ذکر کرتا ہے تو کہتا ہے لنگڑا تیمور حالانکہ اُس کے زمانہ میں کسی کو یہ جرات نہیں تھی کہ وہ اسے لنگڑا تیمور کہے وہ شہنشاہ کہلاتا تھا اور بڑے بڑے حکمران اُس کے خوف سے کانپتے تھے۔ صحابہؓ کی بے مثال عظمت غرض وہ بادشاہ جن کی اپنے زمانہ میں بڑی ہیبت تھی جن کا نام سن کر ہزاروں میل پر لوگ کانپ اٹھتے اُن کا نام آج انتہائی لا پروائی کے ساتھ ایک معمولی اور بے حیثیت آدمی بھی لے لیتا ہے اور کئی تو ایسے ہیں جن کا نام بھی آج کوئی نہیں جانتا مگر وہ غریب بکریاں اور اونٹ چرانے و چرانے والے صحابہ جنہوں نے غربت میں اپنی عمریں گزار دیں آج ان کا نا آج ان کا نام آتا ہے تو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کے بغیر ایک مسلمان کا دل مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ حضرت ابوہریرہ بوہریرہ کی فاقہ کشی حضرت ابو ہریرہ کو ہی دیکھ لو وہ اپنے متعلق کہتے ہیں کہ مجھے سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا