سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 453
ة سيرة النبي علي صلى الله 438 جلد 7 اور انصار میں سے وہ لوگ جو سابق بالایمان ہیں اور اسی طرح وہ لوگ جنہوں نے نیکی اور تقویٰ میں ان کے نمونہ کی اتباع کی اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اُس سے راضی ہو گئے یہ وہ عظیم الشان خطاب ہے جو صحابہ کرام کو ملا اور عَلَى رُؤُوسِ الْأَشْهَادِ اس کا اعلان کیا گیا۔ دنیا میں ہزاروں انقلابات آئے ، حکومتیں بدلیں ، حوادث رونما ہوئے مگر اس الہی دربار سے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کا جو خطاب صحابہ کرام کو ملا تھا وہ بدل نہ سکا۔ آج بھی جب صحار صحابہؓ کا کوئی ذکر کرتا ہے تو ایک مخلص کا دل محبت اور پیار کے جذبات سے لبریز ہو جاتا ہے اور وہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کہے بغیر نہیں رہتا اور قیامت تک ایسا ہی ہوتا چلا جائے گا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں دنیا میں لوگ نہایت چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں اور پھر ان قربانیوں کے بعد جو بدلہ اُنہیں ملتا ہے وہ نہایت ہی ذلیل اور ادنیٰ قسم کا ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے انعامات اتنے اہم ہوتے ہیں اور اُن کا دائرہ اتنا وسیع ہوتا ہے کہ اُن کے مقابلہ میں دنیا کی بادشاہتیں بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتیں مثلاً یہی بات دیکھ لو تیرہ سو سال کا زمانہ گزرنے کے باوجود آج بھی صحابہ کا ذکر آئے تو ہم رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ اب یہ بھی ایک خطاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا ایسا ہی جیسے خان صاحب یا خان بہادر یا سر (Sir) یا ڈیوک (Duke) یا مارکوس (Marquess) یا ارل (Earl) وغیرہ ہیں مگر سوچو تو سہی کتنے خان بہادر یا سر یا ڈیوک یا مارکوس یا ارل ہیں جن کا نام دنیا جانتی ہے یا کتنے بادشاہ ہیں جن کا نام دنیا خطاب سمیت لیتی ہے؟ بڑے بڑے بادشاہ دنیا میں گزرے ہیں مگر آج لوگ اُن کا نام نہایت بے پروائی سے لیتے ہیں ۔ سکندر کتنا بڑا بادشاہ تھا۔ یونان سے وہ چلتا سکندر، دارا اور تیمور کا انجام ہے اور ہندوستان یک فتح کرتا چلا آتا ہے اور تک بڑی بڑی زبر دست حکومتوں کو راستہ میں شکست دیتا ہے مگر آج ایک غریب اور معمولی