سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 452

سيرة النبي علي الله 437 جلد 7 کیسا عظیم الشان در بار الشان دربار ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاز کے لئے منعقد ہوا۔ دیوان خاص کی چوتھی غرض چوتھی غرض دیوان خاص کی یہ ہوتی ہے کہ ما بادشاہ اپنے درباریوں کو اُن کے اچھے کاموں پر خطاب دیتا اور انعام بخشتا ہے مگر دنیا کے درباروں میں میں نے دیکھا کہ خطاب ہے تو بے معنی اور انعام ہے تو فانی ۔ حکومتیں ” خان بہادر اور خان صاحب“ کا خطاب دیتی ہیں مگر حقیقتاً نہ وہ خان ہوتے ہیں نہ بہادر ۔ پھر انعام دیتی ہیں تو بسا اوقات وہ انعام عارضی ثابت ہوتے ہیں اور دوسری حکومت چھین لیتی ہے۔ کبھی انعام ملنے سے پہلے ہی وہ صاحب ختم ہو جاتے اور کبھی اُن سے فائدہ اٹھانے کی توفیق ہی نہیں ملتی۔ کھانا ملتا ہے تو معدہ خراب ہو جاتا ہے، کپڑا ملتا ہے تو جسم پر خارش یا کوڑھ ہو جاتا ہے اور انسان نہ اس کھانے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے نہ کپڑے سے ۔ کبھی انعام لینے والے خود حکومت کے دشمن ہو جاتے ہیں جیسے بعض انگریز کے خوشامدی اور اس سے انعام واکرام لینے والے آج ہم سے اس لئے نا خوش ہیں کہ یہ انگریز کی اطاعت کرتے تھے۔ اُس وقت ان کی تعریف سے ان کے لب خشک ہوتے تھے اور بڑی بڑی کوششوں اور التجاؤں کے بعد انعام لیتے تھے اور اب ہم پر جنہوں نے کبھی کچھ نہیں لیا آنکھیں نکالتے ہیں کہ تم نے اُن کے اچھے کاموں کی تعریف کیوں کی ۔ غرض دنیوی درباروں کا نہ خطاب حقیقت کے مطابق ہوتا ہے نہ انعام مستقل اور پائیدار ہوتا ہے اور نہ انعام لینے والے حکومت کے سچے وفادار ہوتے ہیں۔ صحابہ کرام کو رضی اللہ نگر میں نے دیکھا کہ اس دربار کا خطاب بالکل سچا اور انعام ہمیشہ کے لئے رہنے عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کا خطاب والا ہے۔ چنانچہ دیکھ لوصحابہ کو اللہ تعالیٰ خطاب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَالسَّبِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهْجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ 32 یعنی مهاجرين