سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 451
صلى الله سيرة النبي علي 436 جلد 7 وطن سے نکال دے گا جس کی طرف دنیا حج اور عمرہ کے لئے بار بار آتی ہے تو ہم پھر تجھے واپس تیرے وطن میں لے آئیں گے۔ غور کرو اور دیکھو کہ کتنی بڑی تشفی ہے۔ اول مصیبت کے آنے کی خبر دی ۔ دوم اس مصیبت کے وقت میں پیشگوئی پورا ہونے کی خوشی پہنچائی ۔ سوم واپس آنے کی خوشخبری دی اور چہارم عملاً واپس لا کر دل کو تیسری خوشی پہنچائی ۔ کیا دنیا کا کوئی دربار خاص اس روحانی در بار کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ در بار خاص میں محمد رسول اللہ صلی اللہ پھر سب حکومتیں ایک عرصہ کے بعد کمزور ہو کر مٹ جاتی ہیں کوئی علیہ وسلم کی دائمی حکومت کا اعلان حکومت دائمی نہیں ہوتی۔ انگریزوں ہی کو دیکھ لو ان کی حکومت اب ہندوستان میں کہاں ہے؟ سیلون میں کہاں ہے؟ برما میں کہاں ہے؟ پرانی زبر دست حکومتیں کہاں ہیں ؟ نہ بادشاہ باقی رہے نہ اُن کے امراء اور وزراء باقی رہے، نہ مشکلات میں مشورے دینے والے کام آئے نہ دوسروں کی مشکلات میں مدد دینے کا وعدہ یا وعدہ کرنے والے اپنے وعدوں کا ایفاء کر سکے مگر میں نے اس در بار خاص میں دیکھا کہ گورنر جنرل کو یہ بتایا جا رہا تھا کہ تم کو ہمیشہ کی حکومت دنیا پر دی جاتی ہے چنانچہ فرمایا وَمَا أَرْسَلْتُكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا 31 اے ہمارے رسول ! ہم نے تجھے کسی ایک قوم یا ایک ملک کی طرف نہیں بھیجا، کسی ایک صدی یا ایک زمانہ کے لوگوں کی طرف مبعوث نہیں کیا بلکہ دنیا کی ہر قوم اور قیامت تک آنے والا ہر زمانہ تیرا مخاطب ہے اور ہر فرد کے لئے تیری غلامی لازمی ہے گویا تیری حکومت دنیوی بادشاہوں کی طرح عارضی اور فانی نہیں بلکہ دائمی حکومت تجھے عطا کی جاتی ہے اور ہمیشہ کی سرفرازی تجھ کو بخشی جاتی ہے اب کوئی ماں ایسا بچہ نہیں جن سکتی جو تیرے مقابل میں تجھ کھڑا ہو سکے ۔ یہ کیسا شاندار مقام ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا اور