سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 450

ة سيرة النبي علي صلى الله 435 جلد 7 جب وہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو ایک دن انہوں نے اپنے بعض دوستوں سے پوچھا کہ میری بیماری کی خبر تو سب لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے مگر میری عیادت کو بہت کم لوگ آئے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا بات دراصل یہ ہے کہ آپ بڑے مخیر آدمی ہیں آپ نے سینکڑوں لوگوں کو قرض دیا ہوا ہے اب وہ آپ کے پاس آتے ہوئے شرماتے ہیں کہ مبادا آپ روپیہ کا تقاضا نہ کر دیں ۔ آپ نے فرمایا ! اوہو میرے دوستوں کو بڑی تکلیف ہوئی جاؤ اور سارے شہر میں منا دی کردو کہ ہر شخص جس کے ذمہ قیس کا کوئی قرض ہے وہ اُسے معاف کر دیا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس اعلان پر اس قدر لوگ ان کی عیادت کے لئے آئے کہ ان کی سیڑھیاں ٹوٹ گئیں 29 ۔ یہ وہ بَرَرَةٍ تھے جو محمد رسول اللہ علیہ وسلم کے فیض صحبت سے تیار ہوئے جنہوں نے اپنی جانوں اور اپنے اموال کو ایک حقیر چیز کی طرح محض اس لئے لٹا دیا کہ بنی نوع انسان کو ترقی حاصل ہو۔ تمام مشکلات کو دور کرنے کا وعدہ پھر دنیا میں حکومتوں پر جب مشکلات کے اوقات آتے ہیں تو بادشاہ اُن کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ ہم امید کرتے ہیں کہ تم ثابت قدم رہو گے اور ہماری حکومت کے ہوا خواہ ثابت ہو گے اور ہمارے درجہ کی بلندی کا موجب ثابت ہو گے مگر اس دربار میں میں نے یہ عجیب بات دیکھی کہ تمام مشکلات کے حل کرنے کا بادشاہ خود وعدہ کرتا ہے۔ مثلاً سب سے بڑا صدمہ اس روحانی گورنر جنرل ترک وطن کے صدمہ پر کو اپنے آبائی وکلن کے چھوڑنے کا پیش آنے مکہ میں واپسی کی بشارت والا تھا سو اس کی اُس نے پہلے خبر دے دی کہ عارضی طور پر ہماری مصلحت کے ماتحت تمہارے دشمن تم پر غالب آئیں گے اور تم کو اپنا وطن چھوڑنا پڑے گا لیکن ہم تجھے پھر اپنے وطن میں واپس لائیں گے ۔ چنانچہ فرماتا ہے إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَاتُكَ إِلَى مَعَادٍ 30 ہم جس نے تجھ پر نے قرآن کی حکومت قائم کی ہے اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ جب دشمن تجھے تیرے