سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 460

سيرة ة النبي علي صلى الله 445 جلد 7 کے پہنچانے کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی ہے میں اس کے پہنچانے میں اپنے آخری سانس تک کوشش کرتا چلا جاؤں گا اور کبھی اس میں غفلت اور کوتاہی سے کام نہ لوں گا۔ کرتا اور اور لو عمائد قریش کے آنے پر رسول کریم جب مکہ میں اسلام نے پھیلنا شروع کیا اور قریش کو نظر آنے لگا کہ ان کی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے چا کو جواب کوششیں ناکامی کا رنگ اختیار کرتی جا رہی ہیں تو انہوں نے اپنا ایک وفد ابو طالب کے پاس بھیجا جس میں ابو جہل، ابوسفیان اور عتبہ وغیرہ قریش کے بڑے بڑے رؤسا شامل تھے ۔ انہوں نے ابوطالب کے پاس آکر کہا کہ آپ ہماری قوم میں معزز ہیں اس لئے ہم آپ سے یہ درخواست کرنے آئے ہیں کہ اب بات حد سے بڑھ چکی ہے ہم نے آج تک بہت صبر کیا ہے مگر اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے آپ اپنے بھتیجے کو سمجھائیں کہ وہ ہمارے بتوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دے اور اگر وہ نہ مانے تو اس کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں ہم خود نپٹ لیں گے۔ اور اگر آپ اپنے بھتیجے کو بھی نہ سمجھائیں اور اس کی حمایت بھی دستبردار نہ ہوں تو ہم آپ کا بھی مقابلہ کریں گے اور آپ کو اپنی لیڈری سے الگ کر دیں گے۔ ابو طالب کے لئے یہ ایک نہایت ہی نازک موقع تھا۔ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور کہا اے میرے بھتیجے! آج تیری قوم کے معززین کا ایک وفد میرے پاس آیا تھا وہ تیری باتوں سے سخت مشتعل ہو چکے ہیں اور قریب ہے کہ وہ لوگ کوئی سخت قدم اٹھائیں اور مجھے بھی تکلیف پہنچائیں۔ میں محض تیری خیر خواہی کے لئے کہتا ہوں کہ ان باتوں کو چھوڑ دے ورنہ میں اکیلا ساری قوم کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ میں سمجھتا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی افسردگی کی گھڑیوں میں سے یه سخت ترین گھڑی تھی ۔ ایک طرف وہ شخص تھا جس نے نہایت محبت سے آپ کو پالا تھا اور جس کے پاؤں میں کانٹا چبھنا بھی آپ گوارہ نہ کر سکتے تھے اُسے ساری قوم دکھ دینے اور نقصان پہنچانے کی دھمکی دے رہی تھی اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی صداقت اس سے سے