سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 528

سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 447

سيرة ابي عليه 432 جلد 7 لئے تیار ہوں 21 ۔ گویا غرباء کی امداد کے لئے آپ کو دوسروں کی ماتحتی میں بھی کوئی عار نہیں تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مظلوم پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک ثبوت بھی انہی دنوں بہم پہنچا شخص کے متعلق ابو جہل سے مطالبہ دیا۔ مکہ کے قریب کا ایک شخص تھا جس کا ابو جہل کے ذمہ کچھ قرض تھا اُس نے ابو جہل سے اپنے روپے کا مطالبہ شروع کر دیا مگر ابو جہل اس کی ادائیگی میں لیت و لعل کرتا رہا۔ آخر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ابو جہل نے میرا اتنا روپیہ مارا ہوا ہے آپ مجھے میرا حق دلا دیں ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ابو جہل آپ کے قتل کا فتوی دے چکا تھا اور مکہ کا ہر شخص آپ کا جانی دشمن تھا۔ جب آپ باہر نکلتے تو لوگ آپ پر پتھر اور مٹی پھینکتے ، بیہودہ آوازے کستے اور ہنسی اور تمسخر کرتے مگر آپ نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور فوراً اُس آدمی کو ساتھ لے کر ابوجہل کے مکان پر پہنچے اور دروازہ پر دستک دی ۔ ابوجہل نے دروازہ کھولا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ شخص جس کا میں اس قدر دشمن ہوں آج میرے مکان پر چل کر آگیا ہے۔ اُس نے پوچھا آپ کس طرح آئے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس شخص کا کوئی روپیہ دینا ہے؟ اس نے کہا ہاں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر دے دو ۔ ابوجہل خاموشی سے اندر گیا اور روپیہ لا کر اس کے حوالے کر دیا 22۔ قدرت کا ایک عجیب نشان جب یہ جب مکہ میں مشہور ہوئی تو لوگوں نے ابو جہل کا مذاق اڑانا شروع کر دیا کہ تم تو کہتے تھے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو جتنا دکھ دیا جائے اتنا ہی اچھا ہے اور خود اُن سے اتنا ڈر گئے کہ اُن کے کہتے ہی چپ کر کے روپیہ لا کر دے دیا۔ ابو جہل کہنے لگا تم نہیں جانتے جب میں نے دروازہ کھولا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے