سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 448
سيرة النبي علي صلى الله 433 جلد 7 دائیں اور بائیں دو دیوانے اونٹ کھڑے ہیں اور اگر میں نے ذرا بھی انکار کیا تو وہ مجھے نوچ کر کھا جائیں گے 23 - غرض ایک غریب کا حق دلوانے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا اور اس طرح اپنے عمل سے بتا دیا کہ انسان کے اندر غرباء کی امداد کا کس قدر احساس ہونا چاہئے ۔ صدقہ کا ایک دینار تقسیم نہ ہونے پر کچھ کیا کیا تو اس کو تقسیم پر اسی طرح دفعہ صدقات کا روپیہ اُن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھبراہٹ کرتے ہوئے ایک دینار کسی کونے میں گر گیا اور آپ کو اٹھانے کا خیال نہ رہا۔ نماز پڑھانے کے بعد آپ کو یاد آیا رض تو لوگوں کے اوپر سے پھاندتے ہوئے آپ جلدی سے اندر تشریف لے گئے ۔ صحابہ حیران ہوئے کہ آج کیا بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی گھبراہٹ میں گھر تشریف لے گئے ہیں ۔ جب آپ واپس آئے تو آپ نے فرمایا صدقہ کا ایک دینار گھر میں رہ گیا تھا میں نے چاہا کہ جس قدر جلدی ممکن ہو اسے غرباء میں تقسیم کر دوں 24۔ حضرت عائشہ کی سخاوت اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو خود نہیں کماتی تھیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کے تعلق کی وجہ سے صحابہؓ آپ کی خدمت میں اکثر ہدایا بھجواتے رہتے تھے لیکن وہ بھی اپنا اکثر روپیہ غرباء اور مساکین میں تقسیم فرما دیا کرتی تھیں۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ بعض دفعہ ایک ایک دن میں ہزار ہا روپیہ آپ کے پاس آیا مگر آپ نے وہ سب کا سب شام تک تقسیم کر دیا اور ایک پائی بھی اپنے پاس نہ رکھی ۔ اس پر ایک دیا ۔ پر ستی کر دیا اور ایک پانی سہیلی نے کہا آپ روزہ سے تھیں افطاری کے لئے چار آنے تو رکھ لیتیں آپ نے فرمایا تم نے پہلے کیوں نہ یاد دلایا 25 ۔