سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 446
له صلى الله سيرة ابي عليه 431 جلد 7 گے تا کہ ہر زمانہ کے لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں ۔ وہ دنیا کو اس ہتھیار سے فتح کرنے کی وجہ سے کراہ ہو جائیں گے لیکن معزز ہونے کی وجہ سے وہ مغرور نہ ہوں سے ہو معزز سے وہ مغرور نہ ہوں گے بلکہ بَرَدَةِ ہوں گے یعنی دوسروں پر احسان کرنے والے اور اُن کے غمخوار اور اپنی ترقی کو ذاتی بڑائی کا موجب نہیں بنائیں گے بلکہ اُسے محتاجوں کی تکلیفیں اور غرباء کی مشکلات دور کرنے کا موجب بنائیں گے۔ رض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم اور آپ کے صحابہ کی زندگی کے حالات پر نگاہ ڈالی آپ کے صحابہؓ کی غربا پروری جائے تو ہر شخص کو یہ اقرار کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ ان میں یہ خوبی نہایت نمایاں طور پر پائی جاتی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو بڑی شان عطا فرمائی مگر ہر قسم کی طاقت اور شوکت رکھنے کے باوجود انہوں نے غرباء اور مساکین کے ساتھ اپنا تعلق باوجود اپنا قائم رکھا اور اُن کی تکالیف کو دور کرنے کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ حلف الفضول میں شمولیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مبعوث نہیں ہوئے تھے کہ مکہ کے بعض شرفا نے ایک سوسائٹی بنائی جس کا کام یہ تھا کہ جو لوگ مظلوم ہوں اُن کی امداد کی جائے ۔اس سوسائٹی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہوئے اور چونکہ اس کے بانیوں میں سے اکثر کے نام میں فضل آتا تھا اس لئے اس کا نام حلف الفضول رکھا گیا۔ اس واقعہ پر سالہا سال گزرنے کے بعد ایک دفعہ صحابہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ يَا رَسُولَ اللہ ! یہ کیسی سوسائٹی تھی جس میں آپ بھی شریک ہوئے تھے؟ غالباً صحابہ کا منشا یہ تھا کہ آپ تو نبی ہونے والے تھے آپ ایک انجمن کے ممبر کس طرح ہو گئے ی تھا کہ تو ہی ہونے والے تھے کے ممبر کی ہو جس میں دوسروں کے ماتحت ہو کر کام کرنا پڑتا تھا ۔ آپ نے فرمایا یہ تحریک مجھے ایسی کے ماتحت ہو کر کام کرنا پڑتا۔ پیاری تھی کہ اگر آج بھی مجھے کوئی اس کی طرف بلائے تو میں اس میں شامل ہونے کے